اشاعت کے باوقار 30 سال

القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی اہلیہ نے چھ سال بعد خاموشی توڑ دی

القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی اہلیہ نے چھ سال بعد خاموشی توڑ دی

لندن: القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی اہلیہ نے اپنے شوہر کے قتل کے 6 سال بعد اپنی خاموشی توڑ دی اور 2 مئی 2011 کی رات کو ہونے والے امریکی حملے کی مختصر تفصیل بیان کر دی۔ اسامہ بن لادن کی چوتھی بیوی امل نے کیتھی اسکاٹ کلارک اور ایڈرین لیوی کو ان کی کتاب ’دی ایگزائل: اسامہ بن لادن کی لڑائی‘ کے لیے اپنی آپ بیتی بیان کی۔ برطانوی جریدے ’دی سن‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امل نے بتایا کہ جس وقت امریکیوں نے ان کے گھر پر حملہ کیا، اس وقت اسامہ بن لادن، ان کی 3 بیگمات (امل، خیرہ، صیحام) اور ان کے 7 بچے ان کے ساتھ تھے۔امل نے بتایا کہ وہ اور اسامہ بن لادن ہیلی کاپٹر کی آواز سے خوفزدہ ہو کر اٹھ گئے، انہوں نے بتایا کہ القاعدہ چیف نے اپنے گھر والوں سے کہا ’امریکی آ رہے ہیں‘ جس کے فوری بعد ایک روز دار دھماکا ہوا۔ امل نے بتایا کہ جیسے ہی گھر کے دروازے پر دھماکا ہوا تو اسامہ بن لادن نے گھر والوں سے کہا ’وہ مجھے لینے آئے ہیں آپ لوگوں کو نہیں‘۔ اسامہ بن لادن نے تمام گھر والوں کو گھر کے زیر زمین حصے میں جانے کا کہا جبکہ خود اپنے کمرے ہی میں موجود تھے۔ امل نے بتایا کہ 'انہوں نے اسامہ بن لادن سے کہا کہ ہمارے کسی اپنے نے ہمارے ساتھ غداری کی ہے'۔ اسامہ بن لادن کی بیوی نے انکشاف کیا کہ ان امریکی فوجیوں میں سے ایک فوجی عربی زبان جانتا تھا جس نے بالکونی میں چھپے ہوئے ان کے 22 سالہ بیٹے خالد کو بلایا جس کے بعد اس نے خالد کو قتل کر دیا۔ امل نے بتایا کہ امریکی نیوی سیل کے اہلکار جب اسامہ کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہ اپنے شوہر کے دفاع میں سامنے آ گئیں جس کے بعد امریکی فوجی نے ان کی ٹانگ پر گولی ماری جس کے بعد دیگر امریکی فوجی بھی اس کمرے میں داخل ہوئے اور اسامہ بن لادن کو قتل کر دیا۔ امریکی فوجیوں نے اسامہ بن لادن کے گھر والوں کو ان کی شناخت کرنے کے لیے کہا جس پر تمام گھر والوں نے ان کی تصدیق کی جس کے بعد امریکی فوجی اسامہ بن لادن کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔

loading...