اشاعت کے باوقار 30 سال

اسامہ بن لادن کو مارنے والے امریکی فوجی کا انکشاف

اسامہ بن لادن کو مارنے والے امریکی فوجی کا انکشاف

واشنگٹن: القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی موت کے متعلق امریکیوں نے پوری دنیا کو بتایا کہ انہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا اور پھر ان کی لاش سمندر میں پھینک دی گئی۔ اسامہ بن لادن کی لاش کو سلامت حالت میں سمندر میں پھینکا گیا یا نہیں، یہ تو کسی کو معلوم نہیں، البتہ اس سے پہلے لاش کے ساتھ کیا سلوک ہوتا رہا اس کا احوال امریکی نیوی کے ایک سابقہ کمانڈو نے بیان کر دیا ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ اسامہ بن لادن اسی کی گولیوں سے ہلاک ہوا تھا۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق رابرٹ اونیل نے نئی کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی گولیوں کی بوچھاڑ سے اسامہ بن لادن کا سر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا، اور ان ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے شناخت کے لئے پھر سے جوڑا گیا تھا۔ رابرٹ نے ایک بار پھر دعوٰی کیا ہے کہ اسامہ بن لادن صرف اسی کی گولیوں سے ہلاک ہوئے۔
سابقہ نیوی کمانڈو نے اپنی کتاب ”دی آپریٹر: فائرنگ دی شاٹس دیٹ کلڈ بن لادن“ میں نیوی سیل ٹیم 6 کے اس آپریشن کی تمام تفصیلات بیان کی ہیں جس میں مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا۔ اگرچہ اس بات کے متعلق بہت سے شکوک و شبہات باقی ہیں کہ 2 مئی 2011 کی رات اسامہ بن لادن کے کمپاﺅنڈ میں کیا ہوا تاہم رابرٹ اونیل کا اصرار ہے کہ اس کی بتائی ہوئی کہانی ہی اصل سچ ہے۔
اونیل کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سے چھ دیگر کمانڈوز کے ساتھ اسامہ کے کمپاﺅنڈ کے دوسرے فلور پر پہنچا تو ان کا بیٹا خالد AK-47 رائفل کے ساتھ سامنے آیا۔ وہ کہتا ہے کہ خالد چھپا ہوا تھا لیکن اسے نکالنے کے لئے عربی میں اسے پکارا گیا جس پر وہ باہر آیا اور فوری طور پر گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ اونیل کا مزید کہنا ہے کہ بن لادن بیڈ کے پاس کھڑا تھا اور اس کے ہاتھ اس کے سامنے کھڑی خاتون کے کندھوں پر تھے۔ بعد میں اس خاتون کی شناخت امل کے نام سے ہوئی جو اس کی چار بیگمات میں سے کم عمر ترین تھیں۔ اونیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوری طور پر نشانہ لیا اور خاتون کے دائیں کندھے کی جانب گولیاں برسائیں جو سیدھی اسامہ بن لادن کے سر میں لگیں اور وہ وہیں پر ڈھیر ہو گیا۔
واضح رہے کہ اونیل اس سے پہلے بھی اسامہ بن لادن آپریشن کے متعلق کچھ انکشافات سامنے لا چکا ہے، باوجود اس کے کہ امریکی قوانین کے مطابق وہ ان باتوں کو خفیہ رکھنے کا پابند تھا۔ اس کے انکشافات کے بعد امریکا میں اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے اپنے ہی کچھ ساتھیوں نے اس دعوے کو جھوٹ قرار دے دیا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت اونیل کی چلائی گئی گولیوں سے ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ 2 مئی 2011ء کو امریکہ نے دعویٰ کیا تھا اس کی افواج نے اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں ماردیا تھا اور جب دنیا نے امریکی انتظامیہ سے اس کی نعش دکھانے کا مطالبہ کیا تو یہ بتایا گیا کہ اس کی نعش کو سمندر میں بہا دیا گیا لیکن یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کون سی جگہ پر یہ کام سرانجام دیا گیا جس کے بعد یہ امریکی ایکشن مزید مشکوک ہو گیا تھا۔ 6 سال گزر جانے کے بعد یہ انکشاف کہ اسامہ کے سر کے ٹکڑوں کو جوڑا گیا تھا، معاملے کو مشکوک تر بنا رہا ہے۔

loading...