اشاعت کے باوقار 30 سال

مصر کے صدر انور السادات کو ہلاک کر دیا گیا

اسلامی شدت پسندوں کے ایک گروہ نے مصر کے صدر انور السادات کو اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ جنگ یوم کپور کی سالگرہ کے موقعہ پر فوجی پریڈ کا معائنہ کر رہے تھے۔ مصری فوج کے لیفٹیننٹ خالد الاسلامبولی کی قیادت میں فوجی وردیاں پہنے ہوئے دہشت گردوں کے ایک گروہ نے سٹیج کے سامنے پہنچ کر فائرنگ شروع کردی۔ اور مصری فوج کے افسروں کے مجمع میں دستی بم پھینکے۔ انور السادات کو چار گولیاں لگیں ، دو گھنٹے بعد انہوں نے دم توڑ دیا۔ 1977-78 میں انور السادات اور مناچم بیگن کے درمیان ہونے والے مذاکرات ، جن پر دونوں راہ نماؤں کو امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا ، کی وجہ سے اسلامی شدت پسند ان کے سخت مخالف ہو گئے تھے۔ نائب صدر حسنی مبارک ، انور السادات کے قریب ہی بیٹھے تھے مگر وہ محفوظ رہے۔ انور السادات کی وفات پر انہوں نے اقتدار سنبھالا اور سینکڑوں مشتبہ لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں سے 25 افراد پر مقدمہ چلا جنہوں نے بڑے فخر سے اس واردات میں ملوث ہونے کا اقرار کیا۔ اسلامبولی اور اس کے چار دوسرے ساتھیوں کو موت کی سزا دی گئی جب کہ 17 دوسرے افراد کو قید کی سزائیں دی گئیں۔