اشاعت کے باوقار 30 سال

نقیب اللہ محسود قتل کیس، راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

نقیب اللہ محسود قتل کیس، راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل سے متعلق ازخود نوٹس میں سابق سینئر سپرنٹنڈ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انور کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے جبکہ ان کی گرفتاری عمل میں نہ لانے کی ہدایت دیتے ہوئے انہیں 16 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ منگل کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کراچی میں نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، سماعت کے آغاز میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اللہ ڈنو خواجہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور سابق ایس ایس پی راؤ انوار کی گرفتاری کے حوالے سے انہوں نے اپنا تفصیلی جواب بھی جمع کروایا آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹس بھی جمع عدالت میں جمع کروا دی گئی ہیں، آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ آئی بی نے جواب میں کہا ہے کہ وہ اس کیس کو ہائی پروفائل کیس کے طور پر دیکھ رہے ہیں، راؤ انوار کے موبائل کی لوکیشن ٹریس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم آئی بی کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ واٹس ایپ کی لوکیشن ٹریس نہیں کی جا سکتی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس کی تمام باتوں کے مطابق نتیجہ صفر ہے، ہر بار وقت دیا جاتا ہے تاہم اب لگتا ہے ہمیں ہی راؤ انوار کو پکڑنا پڑے گا، راؤ انوار کی جانب سے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل کو ایک خط لکھا گیا تھا جسے چیف جسٹس نے عدالت میں پڑھ کر سنایا اور پولیس افسران سے استفسار کیا کہ کیا اس پر خط پر دستخط سابق ایس ایس پی ملیر کے ہیں، اے ڈی خواجہ کے ساتھ موجود دیگر افسران نے خط دیکھ کر عدالت کو بتایا کہ دستخط سابق ایس ایس پی ملیر کے ہی لگ رہے ہیں، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ راؤ انوار پولیس سے حفاظتی ضمانت مانگیں تو فراہم کی جائے گی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح انصاف کا حصول مظلوم کا حق ہوتا ہے اسی طرح ظالم کو بھی یہ حق حاصل ہے، راؤ انوار کو بھی انصاف ملنا چاہیے اور شہادت کے بغیر کسی کو مجرم نہیں کہہ سکتے، راؤ انوار کی جانب سے لکھے گئے خط میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی کہ وہ بے گناہ ہیں اور اس معاملے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنائی جائے جو سکیورٹی ایجنسیز کے افسران پر مشتمل ہو اور اس میں سندھ کے علاوہ کسی اور صوبے کے افسران موجود ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ راؤ انوار نے آئی ایس آئی، آئی بی، ملٹی انٹیلی جنس (ایم آئی) کو جے آئی ٹی میں شامل کرنے کی استدعا کی ہے، لیکن ایم آئی اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں اور آئی ایس آئی کا بھی تحقیقات کا تجربہ نہیں ہے۔ دوران سماعت نقیب اللہ محسود کے والد کی جانب سے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط کو بھی کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنایا گیا، خط میں نقیب اللہ محسود کے والد نے راؤ انوار کی عدم گرفتاری پر جواب طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ آئی جی سندھ اب تک راؤ انوار کو کیوں نہیں پکڑ سکے؟ خط میں کہا گیا کہ ہمارے سکیورٹی ادارے جانتے ہیں کہ راؤ انوار کہاں چھپے ہوئے ہیں، عوام سے اس کی گرفتاری کے لیے مدد مانگی جائے۔ خط پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی سندھ کے مطابق سکیورٹی اداروں کی سپورٹ کے باوجود راؤ انوار کو تلاش نہیں کیا جا سکا، راؤ انوار کی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان نے اس معاملے میں ایک نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے سابق ایس ایس پی ملیر کو 16 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا، عدالتِ عظمیٰ نے سندھ پولیس اور وفاقی دارالحکومت پولیس کو ہدایت جاری کی ہے کہ راؤ انوار کو عدالت میں پیشی کے موقع پر گرفتار نہ کیا جائے۔

loading...