اشاعت کے باوقار 30 سال

مودی سرکار کرکٹ کو مالی مفادات کی بھٹی میں جھونکنے لگی

مودی سرکار کرکٹ کو مالی مفادات کی بھٹی میں جھونکنے لگی

ممبئی: بھارتی حکومت کرکٹ کو مالی مفادات کی بھٹی میں جھونکنے لگی جب کہ آئی سی سی ایونٹس کو ٹیکس میں چھوٹ نہ دینے کی نئی روایت قائم کر دی۔ دنیا بھر کے بیشتر ملکوں میں اسپورٹس کو معاشی نمو کا بھی اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کسی بھی ایونٹ کے انتظامات اور انعقاد، شائقین کی آمد و رفت، اشتہاری مہم اور سیاحت میں اضافے جیسے کئی مقاصد کو دیکھتے ہوئے حکومتیں اولمپکس، فٹ بال ورلڈ کپ، عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ حتیٰ کہ فٹ بال لیگز میں بھی ٹیکس کی کمائی خزانے میں ڈالنے کی کوشش نہیں کرتیں لیکن بھارتی حکومت نے اس معاملے میں بھی بنیے کی سوچ رکھی ہے۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016 کے موقع پر آئی سی سی اور بی سی سی آئی کی منت سماجت کے باوجود میڈیا رائٹس رکھنے والے ادارے سے ٹیکس وصول کر لیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس نے کرکٹ کی عالمی باڈی کو ادائیگی میں سے رقم منہا کر لی، آئی سی سی کو اس وقت 3 کروڑ ڈالر کے قریب نقصان ہوا تھا۔آمدنی کی یہی رقم آگے چل کر ممبر ملکوں میں تقسیم ہوتی ہے جس سے وہ کھیل کے فروغ کے لیے کام جاری رکھتے ہیں، یوں بھارتی حکومت صرف آئی سی سی کا ہی نہیں عالمی کرکٹ کا بھی نقصان کرتی ہے۔ بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ایونٹس کو حکومت کی جانب سے ٹیکس میں چھوٹ نہ دینے پر تشویش کا اظہار دبئی میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں بھی کیا گیا،اس موقع پر بتایا گیا کہ حکومتی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو چیمپئنز ٹرافی 2021 میں آئی سی سی کو 10کروڑ ڈالر کا نقصان ہو گا، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016 کے بعد دوسری بار بھاری مالی نقصان اٹھانے کے بجائے متبادل میزبان ملک کی تلاش پہلے ہی شروع کر دی گئی ہے۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش مضبوط امیدوار ہوں گے، ٹیکس پالیسی کی وجہ سے چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد بھارت میں نہ ہوا تو ورلڈ کپ 2023 کی میزبانی بھی چھن جائے گی، انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر خفت اٹھانے والا بھارتی بورڈ اپنی حکومت کو ممکنہ نتائج سے آگاہ کرنے کی کوشش کرے گا، اسے آئی سی سی کی معاونت بھی حاصل ہو گی تاہم حتمی فیصلہ بھارتی حکام کو ہی کرنا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی 2006 اور ورلڈ کپ 2011 میں کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں سخت پالیسی اختیار کی گئی، ورلڈ کپ میں ٹیکس کی چھوٹ دلانے کے لیے بی سی سی آئی نے کوئی مہم نہیں چلائی بلکہ آئی سی سی وفد میں شامل احسان مانی اور جگموہن ڈالمیا نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ بھارتی ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے اس حوالے سے سوال پر کہا کہ کرکٹ بھارت اور دنیا میں مقبولیت کی اتنی سیڑھیاں چڑھ چکی ہے کہ اس کو ٹیکس میں چھوٹ سمیت مالی سہاروں کی ضرورت نہیں رہی، بھارت میں فٹ بال کے بہتر مستقبل کے لیے سپورٹ کرنا وقت کا تقاضا تھا، اس لیے گزشتہ سال ہونے والے انڈر 17 ورلڈ کپ سے حکومت نے کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا۔ بھارتی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس میں کہا گیا کہ اس عہدیدار اور دیگر حکام کی بات سننے کے بعد فی الحال ٹیکس میں چھوٹ دینے کی پالیسی کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے آنے کا امکان نہیں جب کہ چیمپئنز ٹرافی 2021 کے بھارت میں انعقاد یا متبادل میزبان ملک کا فیصلہ چند ماہ میں ہو جائے گا۔

loading...