اشاعت کے باوقار 30 سال

سعودی عرب کا جدت کی جانب ایک اور قدم

سعودی عرب کا جدت کی جانب ایک اور قدم

ریاض: سعودی عرب میں علماء کونسل کے سینئر رکن شیخ عبداللہ المطلق نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ سعودی خواتین کو عبایا پہننے کی ضرورت نہیں۔سعودی میڈیا رپورٹ کے مطابق اتوار کو ایک ریڈیو پروگرام میں سینئر علماء کونسل کے رکن شیخ عبداللہ المطلق نے کہا کہ سعودی خواتین کو عبایا پہننے کی ضرورت بلکل نہیں، خواتین کو معمولی لباس پہننا چاہیے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ عبایا پہنیں، مسلم دنیا میں 90 فیصد سے زائد متقی مسلم خواتین عبایا نہیں پہنتی، لہٰذا ہم لوگوں کو عبایا پہننے پر مجبور کرنا نہیں چاہتے۔ واضح رہے کہ کسی سینئر مذہبی شخصیت کی جانب سے اس طرح کا بیان پہلی دفعہ سامنے آیا ہے، جو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ریاست میں آزاد ماحول کے فروغ کی جانب اشارہ کرتا ہے۔سعودی عرب میں سینئر علماء کونسل سے منسلک سرکاری علماء کو ہی صرف اس بات کی اجازت ہے کہ وہ فتویٰ یا کسی اسلامی قانون پر رائے جاری کر سکیں جب کہ اسی اسلامی قانون کی تشریحات سے سعودی عرب کا قانونی نظام تشکیل دیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں سعودی خواتین کی جانب سے رنگ برنگ عبایا پہننے کا سلسلہ شروع ہوا ہے جب کہ روایتی سیاہ عبائے کے علاوہ ہلکا نیلا اور پنک عبایا بھی پہنا جا رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے کچھ حصوں میں کھلے عبائے، لمبی اسکرٹ یا جینز پہننے کا رواج بھی عام ہوتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب میں گزشتہ کچھ سالوں میں رجحان میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، سال 2016 میں سعودی خواتین کو دارالحکومت ریاض میں سڑکوں پر عبایا اتارنے پر حراست میں لے لیا گیا تھا، اس خاتون کو مذہبی پولیس کے پاس شکایات درج کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ دوسری جانب حالیہ دنوں میں سعودی ریاست میں خواتین کے حقوق کو بڑھا دیا گیا، جس کی مثال انہیں مخلوط کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے اور ڈرائیونگ کے اختیارات دینے سے ظاہر ہوتی ہے لیکن ان سب تبدیلیوں کے باوجود صنفی معاملات پر تقسیم قوم کی جانب سے خواتین پر رکاوٹیں لگانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

loading...