اشاعت کے باوقار 30 سال

انسداد دہشت گردی عدالت نے مشال قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا

انسداد دہشت گردی عدالت نے مشال قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا

ہری پور: ہری پور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مشال قتل کیس میں 58 ملزم ان میں سے ایک کو سزائے موت، 5 کو عمر قید اور 25 ملزمان کو 4,4 سال جب کہ 26 کو باعزت بری کر دیا گیا،کیس کا مرکزی ملزم عارف خان تاحال 2 ساتھیوں کے ساتھ مفرور ہے، جن کی تلاش کے لئے امن و امان نافذ کرنے والے ادارے جگہ جگہ چھاپے مار رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مشال خان قتل کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے ایک ملزم عمران کو سزائے موت اور 5 ملزمان کو عمر قید، 25 ملزمان کو 4، 4 سال قید کی سزا سنائی ہے، جب کہ 26 کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا، مشال خان قتل کیس کا گزشتہ روز ہری پور سینٹرل جیل میں جج فضل سبحان خان نے فیصلہ سنایا۔ فیصلے سے قبل 58 ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ مشال قتل کیس کے مجرم عمران کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ عدالت نے بتایا کہ پراسیکیوشن نے عارف خان کے خلاف کیس بہتر انداز میں پیش کیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے 26 ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل کا فیصلہ کیا ہے۔ جب کہ کیس کے مرکزی ملزم عارف سمیت 3 افراد تاحال مفرور ہیں۔ فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مشال کے بھائی ایمل خان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ یہی تھا کہ کیس کے تمام ملزمان کو سزا ملے، پولیس سے اپیل ہے کہ کیس کے مفرور ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی کی جدائی کا دکھ ہے، تکلیف اور مشکلات کو برداشت کیا۔ مشال کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ایمل خان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی سے متعلق اب بھی خدشات ہیں۔ مشال کے بھائی نے عمران خان سے اپنا وعدہ نبھانے اور صوابی یونیورسٹی کو مشال خان سے منسوب کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ فیصلے سے قبل مشال خان کے والد لندن سے واپس پشاور پہنچے۔ ذرائع کے مطابق والد سمیت پولیس انتظامی افسران کو خصوصی پاس جاری کیے گئے اور سینٹرل جیل کے مرکزی گیٹ پر متعلقہ افراد کی فہرست فراہم کی گئی۔ سینٹرل جیل میں فہرست سے ہٹ کر میڈیا سمیت غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد تھی۔ پولیس سمیت قانون فافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جیل کے اطراف میں تعینات تھی۔ سینٹرل جیل کی طرف آنے والے تمام راستوں کو خار دار تاریں اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ مردان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو مبینہ توہین رسالت کے الزام پر قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد 61 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جن میں سے 58 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جب کہ پی ٹی آئی کے تحصیل کونسلر عارف مردانوی، پختون ایس ایف کے رہنما صابر مایار اور یونیورسٹی کا ایک ملازم اسد ضیاء تاحال مفرور ہیں۔ واضح رہے کہ 13 اپریل کو عبد الولی خان یونی ورسٹی مردان میں جرنلزم کے 23 سالہ طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر جان سے مار دیا۔ مشال خان قتل کیس کا مقدمہ پہلے پشاور ہائی کورٹ میں چلا، تاہم مشال کے والد محمد اقبال کی درخواست پر مقدمہ پشاور ہائی کورٹ سے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت ایبٹ آباد منتقل کر دیا گیا، جہاں ہری پور سینٹرل جیل میں کیس کی سماعت جاری رہی۔ اس کیس میں ستمبر 2017 سے جنوری 2018 تک 25 سماعتیں ہوئیں، جن میں 68 گواہ پیش ہوئے تاہم عدالت نے گواہان کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد 27 جنوری کو مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو سنا دیا گیا۔

loading...