اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

سیارہ پلوٹو کی دریافت

جمہوریت کا سفر جاری رہنا چاہیے

جمہوریت کا سفر جاری رہنا چاہیے

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی دی گئی ذمہ داری نبھا رہے ہیں‘ انہوں نے نواز شریف کو ووٹ دیا تھا اور عوام نے نواز شریف کو منتخب کیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے بعد کابینہ تحلیل ہو گئی‘ عدلیہ‘ آئین اور قانون کی تضحیک نا قابل قبول ہے۔ طلال چودھری نے اگر عدالتی فیصلے پر تنقید کی ہے تو انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ گزشتہ روز چترال میں گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ منصوبہ کے افتتاح کی تقریب سے خطاب اور ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا سفر جاری رہنا چاہیے۔ فیصلے عوام کے ہاتھ میں ہیں‘ یہی جمہوریت ہوتی ہے اور یہی ملک کی ترقی کا سفر ہوتا ہے۔ جولائی میں عوام نے درست فیصلہ کیا تو ترقی کا سفر چلتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی تضحیک کسی صورت قبول نہیں‘ نہ کسی کو آئین و قانون کے منافی بیان دینے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ آزاد ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ عدلیہ فیئر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے نتائج کے بعد اکثریت ملنے پر پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ وزیر اعظم کے امیدوار کا فیصلہ کرے گی۔ اس بارے میں قیاس آرائی نہ کی جائے‘ پارٹی جو فیصلہ کرے گی قبول ہو گا۔
یہ امر واقع ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی سے ہی جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچائے جا سکتے ہیں جب کہ آئین و قانون کی حکمرانی کے لئے حکومت نے بنیادی کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ جمہوریت کی عمارت ریاست کے جن تین ستونوں پر کھڑی ہے‘ آئین میں ان کے اختیارات اور حدود و قیود متعین ہیں۔ اگر یہ ریاستی آئینی ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر فرائض سرانجام دیں گے تو اس سے جمہوریت کے تسلسل و استحکام کی ضمانت بھی ملتی رہے گی جب کہ کسی آئینی ادارے کے اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے سے امور حکومت و مملکت کی انجام دہی میں رکاوٹ پید اہوتی ہے تو اس کے منفی اثرات پورے سسٹم پر مرتب ہوتے ہیں۔ آج بد قسمتی سے ریاستی آئینی اداروں کے فرائض کی انجام دہی کے معاملہ میں آئین و قانون کی حکمرانی کی مثالی صورت حال موجود نہیں ہے۔ چنانچہ سسٹم کی بقاء و استحکام کے حوالے سے اکثر غیر یقینی کی صورت حال پیدا ہوتی رہتی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آئین و قانون کی حکمرانی میں ملک کا ہر شہری چاہے اس کی جو بھی حیثیت ہو اور وہ جس بھی منصب پر فائز ہو‘ اپنے معاملات میں متعلقہ فورم پر جواب دہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر مسند اقتدار پر بیٹھ جائے تو اس کے منصب کو حاصل آئینی استثنیٰ کے باوصف وہ اپنے نجی اقدامات و معاملات پر آئین و قانون سے بالا تر ہرگز نہیں ہو سکتا اور انصاف کی عمل داری میں اس پر عائد کوئی الزام ثابت ہو جائے تو متعلقہ عدالتی فیصلہ اس پر بہر صورت لاگو ہو جاتا ہے۔ آئین و قانون کی حکمرانی کی یہی وہ مثالی صورت حال ہو سکتی ہے کہ اعلیٰ حکومتی مناصب پر فائز شخصیات سب سے پہلے خود کو آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کے تابع کریں اور اپنے مخالف کسی عدالتی فیصلے کو بھی خلوص دل سے تسلیم و قبول کر لیں جب کہ کسی مخالف عدالتی فیصلے کے خلاف داد رسی کے مجاز فورم بھی موجود ہیں۔ بد قسمتی سے حکمران مسلم لیگ (ن) کی سیاسی اور حکومتی قیادت نے اپنے مخالف عدالتی فیصلوں کو مجاز آئینی فورموں کے علاوہ پبلک فورموں پر بھی چیلنج کر کے اور ان فیصلوں کی بنیاد پر متعلقہ فاضل ججوں کے ساتھ ساتھ پوری عدلیہ کو رگید کر اپنے ہی دور حکومت میں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عمل داری کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے جس سے آئینی اداروں میں محاذآرائی کی کیفیت پیدا ہوئی اور سسٹم پر ماضی جیسی زد پڑنے کی فضا ہموار ہوتی نظر آئی۔
یہ طرفہ تماشا ہے کہ پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم خود ہی اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو احتساب کے لئے قانون کے پراسس میں شامل ہونے اور قانون کی عدالت میں پیش ہونے کا اعلان کیا۔ اور جب وہ قانون و انصاف کی عمل داری کی زد میں آئے تو انہوں نے عوامی فورموں پر عدالتی فیصلے کی بھد اڑانا شروع کر دی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت نا اہل ہو کر پارلیمنٹ سے باہر آنے کے بعد انہوں نے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی اپنی سیاسی پالیسی کا حصہ بنا لی جس کے تحت وہ اپنے ہر پبلک جلسے میں سوال اٹھانے لگے کہ انہیں کیوں نکالا گیا ہے جب کہ وہ اپنی پارٹی کے عوامی مینڈیٹ کو کسی عدالتی فیصلہ سے بالا تر قرار دے کر آج بھی یہ سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ جب ملک کے کروڑوں عوام نے مجھے وزیر اعظم منتخب کیا ہے تو پانچ جج مجھے اس منصب سے کیسے ہٹا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے ہی نہیں‘ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دوسرے پارٹی اور حکومتی عہدیداروں نے بھی عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ گزشتہ روز میاں نواز شریف نے پشاور کے جلسے میں اداروں بالخصوص عدلیہ کے ساتھ کھلی محاذ آرائی کا یہ کہہ کر عندیہ دیا کہ وہ کشتیاں جلا کر نکلے ہیں‘ عوام انتخابات میں انہیں اتنے ووٹ دیں کہ ان کی نا اہلی کا فیصلہ ختم ہو جائے۔ اس سے بادی النظر میں یہی تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ میاں نواز شریف عددی اکثریت کی بنیاد پر پارلیمنٹ کے ذریعہ عدلیہ کی تحقیر کی حکمت عملی طے کئے بیٹھے ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت عدالتی فیصلہ کی بنیاد پر ان کی پارٹی سربراہ کی حیثیت سے نا اہلیت کو پارلیمنٹ کے ذریعے متعلقہ قانون میں ترمیم کرا کے اہلیت میں تبدیل کیا گیا جب کہ آئندہ انتخابات میں پارلیمنٹ میں عددی اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں اس حکمت عملی کے تحت ان کی پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کی نا اہلیت بھی ختم کرائی جا سکتی ہے۔ یہ صورتحال پارلیمنٹ کو دوسرے ریاستی آئینی اداروں کے مقابل لانے کے مترادف ہو گی جس سے فطری طور پر آئینی اداروں میں محاذ آرائی بڑھے گی تو ماضی کی طرح اس کے منفی اثرات جمہوری نظام پر ہی مرتب ہوں گے۔ اس تناظر میں آئین و قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی عمل داری پر یقین رکھنے والے حکمران مسلم لیگ (ن) کے سینئر ارکان کو بہر صورت پارٹی کو ایسی پالیسی سے باہر نکالنا ہے جس کے برقرار رہنے سے جمہوریت کی بساط لپیٹے جانے کا اندیشہ لاحق ہو۔ اس پارٹی میں یقیناً ایک ایسا مضبوط حلقہ موجود ہے جو پارٹی کو اداروں کے ساتھ محاذ آرائی سے دور رکھنے کے حق میں ہے۔ اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں کی جانب سے اداروں کے ساتھ ٹکراؤ سے گریز کے مشورے بھی دئے جاتے رہے ہیں جب کہ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی اب عدالتی فیصلوں اور عدلیہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھنے کے مشورے دے رہے ہیں۔ بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پختہ ہو رہا ہے کہ میاں نواز شریف کی عدلیہ کے ساتھ کھلم کھلا محاذ آرائی کے باعث مسلم لیگ (ن) کی حکومت بھی گو مگو کا شکار ہوئی اور اس کی توجہ فلاحی عوامی منصوبوں پر مرکوز نہیں رہ سکی۔ نتیجتاً عوامی مسائل میں اضافہ ہوا اور ملک میں لاقانونیت کا تصور اجاگر ہونے لگا تو اس سے عدلیہ کی فعالیت کا راستہ نکلا ہے چنانچہ چیف جسٹس سپریم کورٹ اس حوالے سے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنے اور گوناں گوں مسائل میں گھرے عوام کی داد رسی کا عزم دہرا رہے ہیں تو عوام نے ان کے ساتھ اپنے مستقبل کی بہتری کی امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔ یہ تصور اس لئے بھی پختہ ہوا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی عدلیہ کے ساتھ محاذآرائی کی پالیسی میں اپنے پارٹی قائد میاں نواز شریف کا دم بھرتے اور انہی کو اپنا وزیر اعظم قرار دیتے نظر آتے رہے ہیں جب کہ اس پالیسی کے تسلسل سے حکومت ہی نہیں‘ پورے سسٹم کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ لاحق ہے۔
وزیر اعظم شاہد خاقان نے اپنے گزشتہ روز کے ٹی وی انٹرویو میں جن واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ عدلیہ‘ آئین اور قانون کی تضحیک قابل قبول نہیں ہو سکتی‘ اس سے بادی النظر میں یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اب وہ بھی میاں نواز شریف کی محاذ آرائی کی پالیسی سے رجوع کر رہے ہیں۔ اگر وہ اپنی کابینہ کے رکن طلال چودھری سے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنانے پر معافی مانگنے کے متقاضی ہیں تو پھر انہیں اسی تناظر میں اپنے پارٹی قائد میاں نواز شریف اور دوسرے پارٹی و حکومتی عہدیداروں کے بیانات کا بھی جائزہ لینا ہو گا۔ وہ اس وقت بہر صورت منتخب وزیر اعظم ہیں جس کا انہوں نے اپنے انٹرویو میں اظہار بھی کیا ہے تو انہیں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عمل داری کے لئے اپنی اتھارٹی بروئے کار بھی لانا ہو گی۔

تحریر: وقاص اسلم بشکریہ: پینا نیوز

نوٹ: ادارہ اردو ٹائمز کا قلم کار کے نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں

loading...