اشاعت کے باوقار 30 سال

ایگزیکٹ جعلی ڈگری از خود نوٹس

ایگزیکٹ جعلی ڈگری از خود نوٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری از خود نوٹس میں ایگزیکٹ کمپنی کے مالک سمیت تمام ملزمان کو طلب کر لیا ہے جب کہ عدالت نے اسلام آباد اور سندھ ہائی کورٹس سمیت ماتحت عدلیہ کے رجسٹرارز کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی ہے، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ اگر جعلی ڈگریوں کی خبر میں صداقت ہے تو کوئی نہیں بچ پائے گا اور اگر صداقت نہیں ہے تو مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی ۔بدھ کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری از خود نوٹس کی سماعت کی، ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارے( ایف آئی اے )بشیر میمن عدالت میں پیش ہوئے اور رپورٹ پڑھنی شروع کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں بتائیں ایگزیکٹ کا کیا مسئلہ ہے، پہلے بھی ایگزیکٹ کا شور اٹھا تھا، ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ دفاتر کو سیل کر کے دستاویزات قبضے میں لی گئیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اب یہ معاملہ دوبارہ ہائی لائٹ ہو رہا ہے، اگر یہ درست ہے تو بتائیں، ملک کی بدنامی ہو رہی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر یہ واقعہ نہیں ہوا تو جو مہم چلارہے ہیں ان کے خلاف ایکشن ہو گا، اگر جعلی ڈگریوں کی خبر میں صداقت ہے تو کوئی نہیں بچ پائے گا، ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ 15 مئی 2015 کو ایگزیکٹ سے متعلق خبر شائع ہوئی، پشاور میں جعلی ڈگری والے پروفیسر پکڑے گئے، چیف جسٹس نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پاکستان کی بدنامی پر ازخود نوٹس لینا ہماری غلطی ہے، آج کل ہم اپنی غلطیوں کا تعین کر رہے ہیں، ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ایگزیکٹ کا ہیڈ کوارٹر کراچی میں ہے، اس ادارے کے 10 کاروباری یونٹ ہیں، ایک بزنس یونٹ آن لائن تعلیم کا ہے ان کے خلاف کل چار مقدمات درج کئے گئے، کراچی ماتحت عدالت میں ٹرائل چل رہا ہے، پشاور ہائی کورٹ میں کیس چلا ہی نہیں، جس پروفیسر نے جعلی ڈگری لی وہ کسی جوڈیشیل افسر کا بھائی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ملزمان کے نام لکھوا دیں، اسلام آباد میں ضمانت والے ملزم کون ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ میرا دل اس وقت دھڑک رہا ہے، مجھے اچھی خبر ملے، ڈاکٹر عامر لیاقت نے ایگزیکٹ سے ڈگری نہ لی ہو، اگر عامر لیاقت نے ایگزیکٹ سے ڈگری لی اس کو چھوڑوں گا نہیں، سامنے کی نشست پر بیٹھے عامر لیاقت حسین نے دونوں ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے کہا کہ میری ڈگری ایگزیکٹ کی نہیں ہے چیف جسٹس نے کہا کہ یہ آپ کا ٹی وی پروگرام نہیں عدالت کا ڈیکورم ہوتا ہے، اس طرح ہاتھ نہ لہرائیں، بعد ازاں عدالت نے ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ سمیت ایگزیکٹ کے تمام ملزمان کو طلب کر لیا، عدالت نے ہدایت کی کہ تمام ملزمان کے نام دیں، ای سی ایل میں بھی ڈالیں گے، پاکستان کی عزت بچانے کے لئے کردار ادا کرنا ہے ، ان کے خلاف مقدمات ہیں تو کیسز چلیں گے ، متعلقہ عدالت ایک سے ڈیڑھ ماہ میں مقدمات نمٹائیں گی، ابھی ملزمان کے نام لکھ کر دیں، ملک کا وقار بہت بڑی چیز ہے ، ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ایگزیکٹ کا ستر فیصد ریوینیو آن لائن تعلیم کے یونٹ سے آتا ہے، بشیر میمن نے کہا کہ کراچی میں بیٹھ کر امریکہ میں 330 جامعات کی ویب سائٹ بنائی گئی، ویب سائٹ پر نمبر امریکہ کا دیا گیا، کال پاکستان میں موصول ہوتی ہے، فون اٹھانے والا امریکی لہجے میں بات کرتا ہے، ڈگری کے خواہش مند امریکہ کے اکاؤنٹ میں پیسے ڈالتے اور وہ پیسے پاکستان منتقل کیے جاتے تھے۔ ایف آئی اے نے کمپنی کے خلاف چار مقدمات بنائے ہیں، دو مقدمات اسلام آباد میں اسلام آباد سے ضمانتیں ہوئیں، بشیر میمن نے کہا کہ ایک جج پر پیسے لینے کا الزام بھی لگا، اس پر عدالت نے رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو طلب کر لیا جب کہ عدالت نے کراچی عدالت کے رجسٹرار کو بھی طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی ہے۔

loading...