اشاعت کے باوقار 30 سال

برطانیہ میں "ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر" کا نفاذ

برطانیہ میں "ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر" کا نفاذ

لندن: برطانیہ کی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر معمولی اختیارات کے تحت برطانیہ میں موجود کالے دھن سے بنائی گئی جائیداد کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا ہے۔ برطانیہ کی حکومت نے ’’ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر‘‘(ناقابل وضاحت دولت) نافذ العمل کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر معمولی اختیارات تفویض کر دئے ہیں جس کے تحت وہ برطانیہ میں موجود کالے دھن سے بنائی گئی جائیداد کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کر سکیں گے۔ نئے قانون کا مقصد کرپٹ سیاست دانوں، وزرا اور دیگر کی جانب سے برطانیہ کو بطور محفوظ پناہ گاہ سمجھنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لانا ہے جس میں جرمانہ اور قید بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ ناقابل وضاحت دولت آرڈر کے نافذ ہونے کے بعد برطانیہ کے قانونی ادارے 5O ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم کے اثاثوں کی تحقیقات کرسکیں گے، آمدنی سے زیادہ اثاثے ضبط کرلیے جائیں گے۔ مذکورہ آرڈر کے مطابق اب اثاثوں کا مالک اپنی آمدنی کا ثبوت پیش کرنے کا پابند ہوگا۔ پاکستان کے بعض سیاست دانوں اور ان کے ہمنواؤں کے لئے ناقابل وضاحت دولت آرڈر پریشان کن ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اگر سیاستدان کا فرنٹ مین بھی برطانیہ میں اپنے نام سے اثاثے رکھتا ہے تو اسے آمدنی کے ذرائع ظاہر کرنا ہوں گے۔ ناقابل وضاحت دولت آرڈر یکم فروری کو نافذ العمل ہوا تاکہ برطانیہ میں روسی اشرافیہ کے اثاثوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ لندن کی انسداد کرپشن گروپ، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ میں 4 ارب 40 کروڑ پاؤنڈ مالیت کے اثاثوں پر ناقابل وضاحت دولت آرڈر کے تحت تحقیقات کی جائے گی۔ ٹی آئی کے مطابق برطانیہ میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کے مشتبہ مالک سابق وزیر اعظم نواز شریف ہیں جب کہ اپارٹمنٹ کی مالیت تقریباً 80 لاکھ پاؤنڈ ہے، ٹی آئی نے بتایا کہ لینڈ رجسٹری دستاویزات میں اپارٹمنٹ کی مالک 2 کمپنیاں نیسکول اور نیلسن لمیٹڈ ہیں۔ خیال رہے پاناما پیپرز کیس سے متعلق معلومات شائع ہوئی تھیں کہ مذکورہ دونوں کمپنیوں کے انتظامات سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پاس تھے اور ان کمپنیوں کو رہن کے بغیر ہی 1993 اور 1995 کے درمیانی عرصے میں خریدا گیا جس کے بعد نواز شریف کی آمدن میں غیر معمولی اضافہ ہوا، اثاثوں کی خریداری سے متعلق ثبوت کی عدم فراہمی پر نواز شریف کو جولائی 2017 کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے نا اہل قرار دے دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں صرف نواز شریف کے اثاثے نہیں بلکہ متعدد پاکستانی سیاست دانوں اور شخصیات کے اثاثے بھی موجود ہیں۔

loading...