اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

سیارہ پلوٹو کی دریافت

فلم پدماوت پر چھائے گہرے بادل چھٹ گئے

فلم پدماوت پر چھائے گہرے بادل چھٹ گئے

جے پور: ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی اور دپیکا پڈوکون کی متنازعہ فلم پدماوت پر چھائے گہرے بادل چھٹ گئے اور ہندو انتہا پسند تنظیموں نے فلم کے خلاف جاری احتجاج ختم کرنے اور پابندی کے مطالبے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ فلم پدماوت کے خلاف پرتشدد مظاہروں اور احتجاج میں سب سے آگے رہنے والی ہندو انتہا پسند جماعت شیری راشٹریہ راجپوت کرنی سینا نے بھارت کی متنازعہ ترین فلم پدماوت کے خلاف ایک سال سے زائد عرصے سے جاری احتجاج کو ختم کرنے اور فلم پر چار ریاستوں راجستھان، گجرات، اترپردیش اور ہریانہ میں عائد پابندی کو ختم کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کرنی سینا ممبئی کے سربراہ یوگیندرا سنگھ کٹر کا کہنا ہے کہ ہماری تنظیم کے نیشنل پریذیڈنٹ سکھ دیو سنگھ گوگامیدی سمیت جماعت کے چند لوگوں نے جمعے کو فلم دیکھی اور فلم دیکھنے کے بعد ان لوگوں کا موقف بالکل تبدیل ہو گیا کیونکہ پدماوت راجپوتوں کی تذلیل کرنے کے بجائے ان کی قربانیوں کو دکھایا گیا ہے جسے دیکھ کر بلاشبہ ہر راجپوت فخر محسوس کرے گا۔ لہذا گوگامیدی کی ہدایت پر ہی فلم کے خلاف جاری احتجاج کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یوگیندرا سنگھ کا مزید کہنا ہے کہ فلم دیکھنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ دہلی سلطنت کے سلطان علاالدین خلجی اور میواڑ کی رانی پدمنی کے درمیان ایسا کوئی سین فلمایا نہیں گیا جس سے راجپوتوں کے جذباتوں کو ٹھیس پہنچے۔فلم کی ریلیز سے قبل انتہا پسندوں کی جانب سے کہا جارہا تھا کہ فلم میں رانی پدمنی اور علاالدین خلجی کے درمیان فلمائے گئے سینز سے ان کی رانی کی تذلیل ہوتی ہے تاہم ریلیز کے بعد دوسری ہی کہانی سامنے آئی جس کے مطابق دہلی کے سلطان علاالدین خلجی کو فلم میں نہایت منفی انداز میں پیش کیا گیا اور مسلمان بادشاہ کی نہایت غلط انداز میں تصویر کشی کی گئی لہذا ہوسکتا ہے مسلمانوں سے نفرت کے باعث ہی ہندوانتہا پسندوں نے فلم کو ریلیز کی اجازت دے دی۔ بھارتی فلم انڈسٹری کی تاریخ کی متنازعہ ترین فلم پدماوتی شروع ہی سے انتہا پسندوں کے نشانے پر رہی، فلم پر سب سے پہلے 2016 میں ہندو انتہا پسند جماعتوں نے حملہ کر کے نہ صرف ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی پر تشدد کیا بلکہ فلم کے کاسٹیوم اور شوٹنگ میں استعمال ہونے والا سامان بھی جلا دیا، بعد میں بھی فلم کے خلاف پرتشدد مظاہرے اور احتجاج دیکھنے میں آئے لیکن سنجے لیلا بھنسالی نے فلم مکمل کر لی۔ فلم کے خلاف سب سے زیادہ مظاہرے اس وقت کیے گئے جب فلم ریلیز ہونے میں چند روز ہی باقی تھے۔ ان مظاہروں نے ملک گیر احتجاج کی صورت اختیار کر لی اور فلم کی ریلیز روک دی گئی۔ سنجے لیلا بھنسالی اور فلم کی ٹیم نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا اور عدالتی حکم پر ہی فلم کو 25 جنوری کو ریلیز کی اجازت ملی، تاہم ریلیز سے پہلے نہ صرف فلم کا نام پدماوتی سے تبدیل کر کے پدماوت کیا گیا بلکہ بہت سارے سینز بھی کاٹے گئے۔ بالآخر فلم 25 جنوری کو ریلیز کر دی گئی لیکن چار ریاستوں میں ابھی بھی فلم پر پابندی عائد ہے لیکن کرنی سینا کی ہدایت کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اب ان ریاستوں میں بھی فلم پر عائد پابندی اٹھا لی جائے گی۔

loading...