اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

سیارہ پلوٹو کی دریافت

ایل پی جی مافیا نے ایل پی جی انڈسٹری کی تباہی کا فیصلہ کروا دیا

ایل پی جی مافیا نے ایل پی جی انڈسٹری کی تباہی کا فیصلہ کروا دیا

اسلام آباد: اوگرا کی آڑ میں ایل پی جی مافیا نے ایل پی جی انڈسٹری کی تباہی کا فیصلہ کروا دیا۔ ایل پی جی چیمبر اور ایل پی جی درآمدی کمپنیوں کی مشاورت۔ درآمدی کمپنیوں نے ہاتھ کھڑے کر دئیے۔ درآمد مکمل روک دی گئی۔ ملک بھر میں ماہانہ 40 سے 50 فیصد درآمدی ایل پی جی کی ضرورت، ایل پی جی پالیسی 2016 کو ناکام بنانے کی کوشش کامیاب۔ حکومت کی 4 سالہ کوششوں پر پانی پھر گیا۔ سگنیچر بونس اور پریمیم بونس کے نام پر جگہ ٹیکس نا منظور۔ 11 مارچ 2018 کو تیسری بین الاقوامی ایل پی جی کانفرنس اعلان۔ تمام ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیاں سگنیچر بونس اور پریمیم بونس کے نام پر جگہ ٹیکس ختم کروانے کے لئے قرارداد پاس کی جائے گی۔ فاؤنڈر ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان(ایل پی جی چیمبر آف پاکستان) اور ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے بتایا کہ مخصوص ایل پی جی مافیا نے اوگرا کی آڑ میں غریب عوام کو لوٹنے کی منصوبہ بندی کر لی۔ اوگرہ نے صرف لوکل پیداوار کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت جاری کر دی۔ ڈیمانڈ اور سپلائی میں گیپ کا بہانہ بنا کر لوٹ مار کا بازار گرم کیا جائے گا۔ ایل پی جی پالیسی 2016 کے تحت کئے گئے فیصلے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ایل پی جی مافیا نے حکومتی ادارے سے ہی حکومت کی بدنامی کروا دی، وزارت پٹرولیم کی گزشتہ 4 سالہ کوششوں پر مکمل پانی پھیر دیا۔ حکومت ایل پی جی پیداواری قیمت 30 ہزار روپے فی میٹرک ٹن اور عوام کو 895 روپے کا گھریلو سلنڈر اور 75 روپے فی کلو مہینہ کرنے کا اپنا وعدہ 4 سال بعد بھی پورا کرنے میں ناکام۔ غریب عوام کو مہنگے پٹرول کے ساتھ ایل پی جی بھی مہنگی خریدنا پڑے گی۔ ایل پی جی چیمبر اور ایل پی جی درآمدی کمپنیوں کی مشاورت کے بعد ایل پی جی درآمدی کمپنیوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے اور امپورٹ مکمل طور پر بند کر دی گئی۔ ایل پی جی پر لگے سگنیچر اور پریمیم بونس کے نام پر جگا ٹیکس نا منظور۔ درآمدی ایل پی جی پر ریگولیٹری ڈیوٹی مہنگائی کا سبب ایڈوانس ٹیکس کے نام پر بھی درآمدی کمپنیوں کو کروڑوں کا ٹیکا۔ آئندہ دنوں میں ایل پی جی کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران آنے کا خدشہ۔ وزارت پٹرولیم کی طرف سے لئے گئے فیصلے سے نہ صرف پاکستان کی غریب عوام بلکہ تمام ایل پی جی کمپنیاں بھی پریشان۔ پاکستان کی 144 کمپنیوں میں سے 20 فیصد(30) ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس لوکل ایل پی جی کوٹہ موجود۔ 80 فیصد(114) کمپنیاں لوکل کوٹے سے محروم۔ لوکل کوٹہ ہولڈر کمپنیوں کے علاوہ تمام ایل پی جی درآمدی کمپنیوں کا کاروبار مکمل ٹھپ۔ ملک بھر میں ماہانہ 40 سے 50 فیصد درآمدی ایل پی جی کی ضرورت۔ سگنیچر بونس جگا ٹیکس کی لعنت کے خاتمے کے لئے تیسری بین الاقوامی ایل پی جی کانفرنس کا انعقاد 11 مارچ 2018 کو لاہور میں کیا جائے گا جس میں سگنیچر بونس کے خاتمے کے لئے تمام ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیاں قرارداد پاس کریں گی۔ ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان(ایل پی جی چیمبر آف پاکستان) نے کانفرنس میں وزیر اعظم پاکستان کو بطور مہمان خصوصی مدعو کرنے کے لئے نے دعوت نامہ ارسال کر دیا۔ عرفان کھوکھر کا لیے گئے فیصلے پر حکومت پاکستان سے نظر ثانی کی اپیل۔ وزیر اعظم پاکستان کو نظر ثانی کے لئے خط بھی ارسال کر دیا گیا۔

loading...