اشاعت کے باوقار 30 سال

بھارت نے پاکستان کے خلاف خفیہ جنگ شروع کر رکھی ہے

بھارت نے پاکستان کے خلاف خفیہ جنگ شروع کر رکھی ہے

نئی دہلی: بھارت کے معروف اخبار دی ہندو کے جریدے فرنٹ لائن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بھارت نے نہ صرف پاکستان کے خلاف خفیہ جنگ شروع کی ہوئی ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور سزا پر نئی دہلی کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارتی جریدے فرنٹ لائن کی جانب سے اس بات کا اعتراف اس رپورٹ کو مزید تقویت دیتا ہے جو کچھ ماہ قبل ایک ویب سائٹ دی کوئنٹ نے جاری کی تھی، جس میں کلبھوشن یادیو کے ریسرچ اینڈ انیلسس ونگ (را) کے بطور جاسوس سروس کے بارے میں بات کی گئی تھی۔ دی کوئنٹ کی جانب سے پہلے جاری کردہ رپورٹ پر اسٹاف کو سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا اور فرنٹ لائن جریدے کی مضمون میں اس رپورٹ کی کچھ چیزوں کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔ فرنٹ لائن میں پروین سوامی نے اپنے آرٹیکل میں لکھا کہ 2013 کے بعد سے بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف خفیہ کارروائی کا پروگرام بنایا گیا، جسے ابتدائی طور پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت دیول دیکھ رہے تھے جب کہ اب اسے را کے انیل دھشمنا دیکھ رہے ہیں اور ان کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے انہیں بے مثال کامیابی حاصل ہوئی لیکن سزائے موت کے قیدی کلبھوشن یادیو کی کہانی یہ واضح کرتی ہے کہ یہ خفیہ جنگ کسی خطرے سے کم نہیں۔ جریدے کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ کلبھوش یادیو بطور نیوی افسر ریٹائر ہو چکا لیکن ریاست کے سامنے اس بات سے انکار کر دیا کہ اصل میں وہ کب ریٹائر ہوا۔ پروین سوامی نے اپنے آرٹیکل میں لکھا کہ ان کی جانب سے بھارتی نیول ہیڈ کوارٹر کو خط بھی لکھا گیا تھا کہ آیا کلبھوشن یادیو نیوی کے حاضر سروس افسر ہیں؟ لیکن اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا گیا بلکہ اس معاملے سے متلعق وزارت خارجہ سے رجوع کرنے کا کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس بارے میں سب کچھ عوام کے سامنے ہے اور مزید اس میں کچھ اضافے کی ضرورت نہیں۔ بھارتی جریدے کے آرٹیکل میں بتایا گیا کہ نا معلوم ذرائع کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو نے خفیہ سروسز کے لیے رضا کارانہ خدمت کی جب کہ ایک موقع پر ایک سینئر انٹیلی جنس اہل کار نے کلبھوشن یادیو سے ملاقات کی اور اسے غیر معمولی جرات پر منتخب کیا۔ تاہم بھارتی نیوی کے ایک سینئر اہل کار نے آرٹیکل کے مصنف کو بتایا کہ کمانڈر یادیو اس بات پر زور دیتا تھا کہ اسے نیوی کے پے رول پر بحال رہنے کی اجازت دی جائے اور اس کی ترقی اور تنخواہ محفوظ رہے لیکن نیوی کے پاس غیر ملکی کام کرنے والوں کے لیے ایسا نظام نہیں تھا۔ خیال رہے کہ پروین سوامی باقاعدگی سے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے لیے لکھتی ہیں لیکن ان کا آرٹیکل فرنٹ لائن میں شائع ہوا نہ کہ انڈین ایکسپریس میں، جس سے بات واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے ان کا آرٹیکل چھاپنے سے انکار کر دیا تھا۔ آرٹیکل میں کہا گیا کہ کلبھوشن یادیو نے 1987 میں بھارتی نیوی جوائن کی اور ان کا سروس نمبر 41558Z تھا اور انہیں 13 سال کی خدمات کے بعد سال 2000 میں کمانڈر کے رینک پر ترقی دی گئی لیکن بھارت کے گزیٹ کے محفوظ شدہ ڈیجیٹل عوامی دستاویزات میں وزارت دفاع کی کچھ فائلوں میں سے سال 2000 کے چند ماہ کا ریکارڈ ہٹا دیا گیا، جس کے باعث کلبھوشن یادیو کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے کوئی تفصیلات موجود نہیں۔

loading...