اشاعت کے باوقار 30 سال

برطانیہ نے اسکاٹ لینڈ میں راڈار نصب کر دیے

 برطانیہ نے اسکاٹ لینڈ میں راڈار نصب کر دیے

اڈنبرہ: برطانوی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو روس کی طرف سے حقیقی خطرات لاحق ہیں جن کے تدارک کے لیے برطانیہ نے اسکاٹ لینڈ کے ایک جزیرے میں فضائی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے راڈار نصب کر دیے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی وزیر دفاع ’گوین ولیمسن‘ نے روس کی طرف سے لاحق خطرات کے تدارک کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کے تحت اسکاٹ لینڈ کے جزیرہ شٹلانڈ میں میزائل نصب کیے ہیں۔ ولیمسن نے بتایا کہ ’ہم اپنی فضائی حدود کو ممکنہ روسی جارحیت سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ دفاعی اقدامات کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا راڈار برطانیہ کے دفاع کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ روس کی مشرقی یورپ کی سرحد پر سرگرمیاں بند نہیں ہوئیں ہیں۔ روس کی طرف سے برطانیہ کو درپیش خطرہ شدید اور حقیقی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ ’اونسٹْ جزیرے میں ایک کروڑ پاؤنڈ مالیت سے راڈار نصب کیا ہے۔ یہ راڈار برطانیہ کی مشرقی سرحد پر حفاظت کا اہم ذریعہ ہے اور یہ بہت جلد کام کرنا شروع کر دے گا۔ وزارت دفاع کے مطابق 15 جنوری کو برطانیہ نے دو روسی جنگی طیاروں کی نگرانی کے لیے اپنے جنگی طیارے فضاء میں چھوڑے تھے۔ روسی طیاروں نے فضائی نقل و حرکت کے حوالے سے برطانوی ہدایات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ روز میں روسی جنگی طیاروں نے برطانیہ کے قریب فضائی حدود میں 69 ایسی کوششیں کی تاہم ان کی تفصیل سامنے نہیں آئی اور نہ ہی روس کی طرف سے ان دعووں پر کوئی رد عمل سامنے آیا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع کی طرف سے اسکاٹ لینڈ کے ایک جزیرے پر راڈار نصب کرنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب برطانوی عسکری قیادت کا روس کے خلاف لب و لہجہ بھی مزید سخت ہو گیا ہے۔ ولیمسن نے الزام عاید کیا کہ روس برطانیہ کے بنیادی ڈھانچے کی جاسوسی کر رہا ہے۔ یہ جاسوسی روس کی کسی بھی جارحیت تک جا سکتی ہے اور وہ برطانیہ کو افراتفری سے دو چار کر سکتا ہے۔ حال ہی میں برطانوی فوج کے سربراہ نے بھی کہا تھا کہ سرد جنگ کے بعد پہلی بار روس برطانیہ کے لیے زیادہ فعال اور پیچیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ جنرل نیک کارٹر ے نے تسلیم کیا کہ ان کے ملک کو روس کی فوجی صلاحیت سے نمٹنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

loading...