اشاعت کے باوقار 30 سال

اسرائیل نے یاسر عرفات کو قتل کرنے کی بے پناہ کوشش کی

اسرائیل نے یاسر عرفات کو قتل کرنے کی بے پناہ کوشش کی

واشنگٹن: امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے یاسر عرفات کو قتل کرنے کی بے پناہ کوشش کی۔ نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات کو قتل کرانے کے لیے بے چین تھے اور انہوں نے فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کے سربراہ کو قتل کرنے کے لئے کئی منصوبے بھی بنوائے تھے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی صحافی رینون برگمین نے سابق فلسطینی صدر کی موت کے کئی سالوں بعد اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے یاسر عرفات کے جہاز کو غرق کروانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا جب کہ یاسر عرفات کو قتل کرنے کے بعض منصوبے تو بالکل فلمی سین کی طرح تھے۔ کتاب کے مطابق ایتھنز ایئرپورٹ پر اسرائیلی انٹیلی جنس اہل کار یاسر عرفات کے منتظر تھے، ایک مرتبہ ایف 16 نے بوئنگ 707 کے قریب پہنچ کر مواصلات میں خلل ڈالا۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایف 16 طیاروں نے 5 دفعہ مختلف مسافر طیاروں کی جانب اڑان بھری، جنگی طیاروں کو یاسر عرفات کا مسافر طیارہ تباہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ جنگی طیارے نومبر 1982 سے جنوری 1983 تک اسٹینڈ بائی رکھے گئے تھے، اسرائیل نے یاسر عرفات کے قتل کے لیے 4 ایف 16 طیارے تیار رکھے تھے۔ کتاب میں مصنف نے کہا ہے کہ اسرائیل سمجھتا تھا کہ عرفات کا خاتمہ فلسطینی ریاست کاخاتمہ ہو گا، یاسر عرفات کو انٹرویو کے دوران صحافی سمیت مارنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ پیرس کے ایک اسپتال میں زیر علاج یاسر عرفات گیارہ نومبر 2004 کو نامعلوم بیماری کے باعث 75 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے اور ان کی موت کو مشکوک قرار دیا گیا تھا جب کہ اس کی تحقیقات اب بھی کی جا رہی ہے۔ آزادی فلسطین کی جدوجہد کرنے والے یاسر عرفات کی زندگی تو ختم ہو گئی، لیکن فلسطین میں آج بھی صیہونی طاقتوں سے آزادی کی جد و جہد جاری ہے۔ چوبیس اگست 1929 کو قاہرہ میں پیدا ہونے والے یاسر عرفات نے آزاد فلسطین کی جد و جہد کی ابتداء 1948 میں عرب اسرائیل جنگ سے کی، گوریلا لڑائیوں کے لیے مشہور یاسر عرفات نے اپنی جد و جہد کو مزید موثر بنانے کے لیے سیاسی جماعت الفتح بنائی اور پھر پی ایل او کے قیام کے بعد طویل جد و جہد اور شدید مخالفت کے باوجود 1993 میں اوسلو معاہدے کے تحت فلسطین میں حکومت قائم کی۔ ایک وقت میں دہشت گرد کہلانے والے یاسر عرفات کو فلسطینی ریاست کے قیام اور امن کی کوششوں پر امن کے نوبیل انعام سے بھی نوازا گیا۔

loading...