اشاعت کے باوقار 30 سال

مصر کے سابق چیف آف سٹاف سامی عنان پر جعلی سازی کا الزام

مصر کے سابق چیف آف سٹاف سامی عنان پر جعلی سازی کا الزام

قاہرہ: مصری فوج نے سابق چیف آف سٹاف سامی عنان کو بطور امیدوار صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روکتے ہوئے جعل سازی اور خلاف ورزیوں کی بناپر پوچھ گچھ کے لئے طلب کر لیا۔ عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق فوج نے سامی عنان پر اپنی فوجی ملازمت کے خاتمے کے کاغذات میں جعل سازی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا صدارتی انتخاب میں حصہ لینا فوج کے خلاف اشتعال انگیزی کے زمرے میں آتا ہے۔ فوج کی جانب سے تا حال خلاف ورزیوں کی قسم واضح نہیں کی گئی ہے۔ مصری فوج نے ریٹائرڈ آرمی جنرل سامی عنان کا تعلق کالعدم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون سے بھی جوڑا ہے۔ اس کا ثبوت یہ پیش کیا ہے کہ انھیں اخوان کے ایک سینئر رہنما نے ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے آئندہ صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کی درخواست کی گئی تھی اور کالعدم جماعت کی جانب سے ان کی حمایت کی شرائط بیان کی گئی ہیں۔ سابق جنرل کی جماعت عرب ازم مصر ی پارٹی کی پالیسی کمیٹی کے سابق سیکریٹری رجب ہلال حمدہ نے بھی لندن میں ایک نیوز کانفرنس میں یہ دعوی کیا ہے کہ سامی عنان صدارتی امیدوار کے طور پر نامزدگی کے لیے اخوان المسلمو ن کو استعمال کر رہے ہیں۔ حمدہ نے اس نیوز کانفرنس میں جماعت سے مستعفی ہونے اور صدر عبدالفتاح السیسی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہی حقیقی معنوں میں ملک کے لیڈر ہیں۔ سامی عنان کو مصری آئین کے تقاضوں کے مطابق صدارتی امیدوار بننے کے لیے 25 ہزار ووٹروں کے دستخط درکار ہیں۔ ان کی صدارتی مہم نے ان دستخطوں کے لیے سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ 596 اراکین پر مشتمل پارلیمان کے کم سے کم 20 ارکان کی حمایت حاصل کر لیں۔ انھیں صدارتی امیدوار بننے کے لیے مسلح افواج کی سپریم کونسل سے بھی منظوری حاصل کرنا ہو گی۔

loading...