اشاعت کے باوقار 30 سال

پاک بھارت سیریز میں سیاست بڑی رکاوٹ ہے

پاک بھارت سیریز میں سیاست بڑی رکاوٹ ہے

کراچی: سابق پاکستانی فاسٹ باؤلر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ پاک بھارت سیریز کے درمیان سیاست ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور آپس کے میچز نہ ہونے کا الزام پاکستان اور بھارت کے کرکٹ بورڈز کو نہیں دیا جا سکتا، پی سی بی یا بی سی سی آئی حکام موجودہ حالات کے قطعی ذمہ دار نہیں کیونکہ دونوں ہی باہمی کرکٹ سیریز کے انعقاد کی خواہش رکھتے ہیں، پڑوسی ممالک کے درمیان میچز سے ان کا تمام تر مفاد بھی وابستہ ہے ،عام طور پر سب یہی کہتے ہیں کہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنا چاہئے مگر بدقسمتی سے اس معاملے کا فیصلہ ڈپلومیٹک لیول پر کیا جاتا ہے ،موجودہ کھلاڑیوں کو بھی روایتی رقابت کا تجربہ ہونا چاہئے ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے بھی پاک بھارت مقابلوں کے انعقاد کے لئے آواز بلند کر دی ہے جن کا کہنا ہے کہ شائقین کرکٹ سرحدوں کے دونوں اطراف موجود کھیلوں کی تاریخی رقابت کو حالیہ برسوں کے دوران دیکھنے سے محض اس وجہ سے محروم رہے کہ سیاسی معاملات راہ کی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے سبب دونوں ممالک کے درمیان دو ہزار سات کے بعد کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہو سکی ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران محض ایک مرتبہ دو ہزار بارہ میں پاکستانی ٹیم نے بھارت جا کر مختصر فارمیٹ کی باہمی سیریز کھیلی تھی اور موجودہ کشیدہ سیاسی حالات کے پیش نظر کوئی امکان نہیں کہ دونوں ممالک ایک مرتبہ پھر میدان میں آمنے سامنے آ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے بات چیت میں شعیب اختر کا کہنا تھا کہ اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ سرحد کے دونوں طرف موجود کرکٹرز کو دونوں ممالک کی روایتی رقابت کا کوئی تجربہ ہی نہیں ہے حالانکہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ایشز سیریز کی طرح ان مقابلوں کی بھی دنیا میں اپنی ایک علیحدہ اہمیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے موجودہ کھلاڑیوں کے پاس یہ موقع نہیں ہے کہ وہ باہمی مقابلوں میں بہترین کارکردگی دکھا کر راتوں رات ہیرو بن سکیں اور اسی وجہ سے ان کی شدت کے ساتھ یہ خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے کھلاڑیوں کو یہ تجربہ ملنا چاہئے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز کس طرح اور مقابلے کے کس رجحان کے ساتھ کھیلے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بھارت کے خلاف باہمی سیریز کھیلیں اور بہترین تجربہ حاصل کرنے کے ساتھ ہی وہ شہرت بھی سمیٹی جو کہ کسی اور ملک کے خلاف کھیلتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ راولپنڈی ایکسپریس کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز ہونا لازمی ہیں لیکن ان کے انعقاد کی راہ میں سیاسی رکاوٹیں حائل ہیں لہذا اب بیانات کو ایک جانب رکھتے ہوئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

loading...