اشاعت کے باوقار 30 سال

بچیوں کے ساتھ زیادتی اور ان کا قتل مجھ سے جن کراتے تھے

بچیوں کے ساتھ زیادتی اور ان کا قتل مجھ سے جن کراتے تھے

لاہور: زینب کو قتل کرنے والے سفاک ملزم عمران نے کہا ہے کہ بچیوں کا قتل میں اپنی مرضی سے نہیں کرتا تھا یہ کام مجھ پر آئے جن کراتے تھے۔ تفتیشی ٹیم کو دیے گئے بیان میں ملزم عمران نے بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کا اعتراف کیا تاہم یہ بھی کہا کہ وہ یہ کام اپنی مرضی سے نہیں کرتا تھا بلکہ جن اس سے کراتے تھے۔ تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ عمران تعویز گنڈہ بھی کرتا تھا۔ سفاک عمران بچیوں کو زیر تعمیر گھروں میں لے جا کر پہلے تشدد اور زیادتی کا نشانہ بناتا بعدازاں انہیں قتل کرکے لاش کسی خالی پلاٹ یا کچرا کنڈی میں پھینک دیتا تھا۔ ملزم عمران کا زینب کے گھر میں آنا جانا تھا وہ زینب کے جنازے میں بھی شریک ہوا اور زینب قتل کیس میں احتجاج کے دوران بھی پیش پیش رہا۔ ذرائع نے ملزم کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملزم کا نام عمران علی ولد ارشد ہے جس کا تعلق ترکھان برادری سے ہے اور اس کی عمر 24 سال ہے۔ ملزم 4 جماعتیں پاس ہے جس کا والد نفسیاتی مریض تھا جو گزشتہ ماہ انتقال کر گیا۔ ملزم کا ایک بھائی فرحان ، دوسرا فہد اور تین بہنیں ہیں ایک کے علاوہ تمام غیر شادی شدہ ہیں، ملزم راج گیری یعنی مستری کا کام کرتا ہے۔

loading...