اشاعت کے باوقار 30 سال

وزیر اعلیٰ پنجاب کا زینب کے قاتل کی گرفتاری کا باضابطہ اعلان

وزیر اعلیٰ پنجاب کا زینب کے قاتل کی گرفتاری کا باضابطہ اعلان

لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اللہ تعالی کے حضور سربسجود ہیں کہ ہماری اجتماعی کاوشوں اور مخلصانہ محنت کے نتیجے میں قوم کی بیٹی زینب کا درندہ صفت قاتل گرفتار ہوا ہے۔ زینب سے ہونے والے ظلم اور زیادتی پر پوری قوم رنجیدہ اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ صرف 14 دن کی شبانہ روز محنت، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی، اور انٹیلی جنس اداروں کی دن رات کی محنت اور انتھک کاوشوں کی بدولت یہ بڑی کامیابی ملی ہے۔ حاجی امین انصاری اور پوری قوم کی دعاؤں کے نتیجے میں زینب کا قاتل قانون کی گرفت میں آیا ہے۔ اس درندے کا نام عمران ہے جس کی عمر 24 سال ہے اور یہ قصور کا رہنے والا سیریل کلر ہے۔ میرا بس چلے تو اس بھیڑیے کو چوک پر لٹکا کر پھانسی دے دی جائے لیکن میں اور ہم سب قانون کے تابع ہیں۔ میری عدالت عالیہ کے چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ اس کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کے خصوصی عدالت میں چلایا جائے۔ پنجاب حکومت تمام قانونی تقاضے اور لوازمات پورے کرے گی۔ ہم ایک لمحہ کے لئے بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے تا کہ مقدمے کا ٹرائل جلد مکمل ہو اور یہ درندہ کیفر کردار کو پہنچے۔ یہی زینب کے والد، میری پنجاب حکومت اور پوری قوم کی خواہش ہے۔ وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار آج ماڈل ٹاؤن میں حاجی محمد امین انصاری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ میں اس درندہ صفت کی گرفتاری پر پوری کابینہ کمیٹی، سیاسی رفقاء، تمام انٹیلی جنس اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی فرانزک لیب کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اس کیس کو حل کرنے میں بھرپور مدد اور تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے فرانزک لیب میں 1150 ڈی این اے کی پروفائلنگ ہوئی اور درندہ صفت کا ڈی این اے سو فیصد میچ کر گیا۔ اس درندے کا کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی ہوا جس میں اس نے اپنی تمام درندگیوں اور سیاہ کاریوں کا اعتراف کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زینب کے قاتل کو گرفتار کرنے والی پوری ٹیم اور تعاون کرنے والے تمام ادارے اس قوم کے درخشندہ ستارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میری ٹیم ذاتی طور پر اس کیس پر پیشرفت کا جائزہ لیتے رہے ہیں اور اس ٹیم نے قوم کے عظیم سپوتوں کی طرح کیس کی اس طرح پیروی کی جیسے یہ واقعہ خدانخواستہ ان کی اپنی بیٹی سے ہوا ہو۔ پوری ٹیم نے درد دل کے ساتھ راتوں کو جاگ کر کام کیا ہے اور میرے سیاسی کیریئر میں مشترکہ کاوش کی شائد ہی کوئی اور ایسی مثال ہو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم پر جب کوئی امتحان کا وقت آتا ہے تو قوم ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر عظیم مقصد کے حصول کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالی کا بے پناہ فضل و کرم ہے کہ انتہائی انتھک محنت، ایمانداری اور خلوص دل سے کی گئی کاوشیں رنگ لائی ہیں اور قوم کی بیٹی زینب کا قاتل گرفتار ہوا ہے۔ زینب کو تو میں واپس نہیں لا سکتا لیکن متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لئے جان لڑا دوں گا۔ اس کی یقین دہانی میں نے حاجی امین انصاری کو قصور میں ملاقات کے دوران بھی کرائی تھی۔ درندے کی گرفتاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ اب اس بھیڑیے نما درندے کے سفاکانہ عمل پر اسے کیفر کردار تک پہنچانے کا دوسرا مرحلہ شروع ہونا ہے۔ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اسے عبرتناک سزا دینا ضروری ہے۔ اگر قانون میں تبدیلی کرنا پڑے تو کرنا ہو گی۔ زینب تواس دنیا سے چلی گئی ابھی اس کی زندگی کا پھول کھلا ہی تھا کہ ظالم نے اسے مسل دیا۔ جس طرح ظالم نے اس معصو م کلی کو کچلا ہے اسی طرح قانون کے آہنی ہاتھوں سے اس ظالم کو بھی کچلنا چاہیے تب ہی درندگی میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں ڈی جی فرانزک سائنس ایجنسی کا بھی شکر گزار ہوں جن کی دن رات کاوشوں کی بدولت ملزم کی گرفتاری ممکن ہوئی ہے اگر یہ ایجنسی نہ ہوتی تو شائد ہمیں کامیابی نہ ملتی۔ بھرپور تعاون پر نادرا کا بھی شکرگزار ہوں۔ اس واقعہ پر احتجاج ہوا اور سیاسی شعبدہ بازی بھی کی گئی۔ میری ایسے عناصر سے ہاتھ باندھ کر درخواست ہے کہ خدارا لاشوں پر سیاست نہ کی جائے ورنہ یہ آگ آپ کے گھروں تک بھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردان میں ظلم اور زیادتی کا شکار ہونے والی معصوم بچی عاصمہ بھی اس قوم کی بیٹی ہے جو سفاکی کی نظر ہوئی۔ میں درد دل کے ساتھ خیبر پختونخوا حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ ہماری فرانزک لیب حاضر ہے اور ہم ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہیں۔ کراچی میں ہونے والے نقیب اللہ محسود کے واقعہ کے حوالے سے جو بھی سائنسی و تکنیکی معاونت درکار ہے ہم حاضر ہیں۔ یہ وقت لاشوں پر سیاست کرنے کا نہیں، آئیں مل بیٹھ کر قوم کے دکھ بانٹیں اور وطن عزیز کے مسائل کو حل کریں۔ ایسا کرنے سے ہی پاکستان اپنا وجود دنیا سے تسلیم کرائے گا۔ وزیر اعلی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تمام اداروں کے باہمی تعاون اور اجتماعی کاوشوں کی بدولت ہمیں کامیابی ملی ہے اور ہم مردان کی عاصمہ کے قاتلوں تک پہنچنے کے لئے کے پی کے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ جن لوگوں سے اس واقعہ میں کوتاہی ہوئی ہے ان کی باز پرس بھی ہو گی۔ میں اس طرح کی درندگی کا شکار ہونے والی دوسری بچیوں کے لواحقین سے بھی ملوں گا اور انہیں بھی انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ زینب کے والد حاجی امین انصاری نے کہا کہ میں اب تک کی پیشرفت پر مطمئن ہوں اور ملزم کی گرفتاری پر وزیر اعلی شہباز شریف، آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان کا شکر گزار ہوں اور ان تمام اداروں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی اجتماعی کاوشوں کی بدولت میری بیٹی کا قاتل قانون کے شکنجے میں آیا ہے۔ ڈی جی فرانزک سائنس ایجنسی نے کیس کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کیس کی سائنسی بنیادوں پر تفتیش کی گئی ہے اور ہماری سائنس ایجنسی دنیا کی دوسری بڑی فرانزک لیب ہے۔

loading...