اشاعت کے باوقار 30 سال

پنجاب یونیورسٹی میدان جنگ بن گئی

پنجاب یونیورسٹی میدان جنگ بن گئی

لاہور : پنجاب یونیورسٹی میں فیسٹول منعقد کرانے پر دو طلبہ کے درمیان ہنگامہ آرائی سے یونیورسٹی میدان جنگ بن گئی۔ پولیس نے طلباء کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے شیل پھینکے جس سے 18 سے زائد طلباء زخمی ہو گئے ،فوری ایکشن کے بعد حالات پر قابو پا لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز صبح پانچ بجے اسلامی جمعیت طلبہ بک سٹال فیسٹیول منعقد کرنے کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں تیاریوں میں مصروف تھے کہ اس دوران بلوچ ،پشتون ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ موومنٹ کے طلباء نے وہاں پر دھاوا بول دیا،تھوڑ پھوڑ کی اور ایک کمرے کو آگ لگا دی،جس کے نتیجے میں طلبہ کے درمیان ایک بڑا تصادم ہوا، صورت حال کو قابو میں لانے کے لئے سی سی پی او لاہور پولیس امین وینس اور ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ پنجاب یونیورسٹی پہنچ گئے، ڈنڈا بردار مظاہرین نے پولیس کی گاڑی کا محاصرہ کیا اور پولیس کی گاڑی سمیت کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دئے پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے احتجاجی طلبہ پر آنسو گیس کے شیل پھینکے جس کے نتیجے میں 18 سے زائد طلبہ زخمی ہو ئے اور متعدد کو پولیس نے گرفتار کر لیا، یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ ناظم کے مطابق ایک لسانی تنظیم نے ہمارے ایونٹ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے جب کہ بلوچ ، پشتون تنظیم کے ناظم اسفند یار نے کہا کہ ہمارے لوگ پاس سے گزر رہے تھے کہ جمعیت کے طلبہ نے پہل کی جس کے نتیجے میں تصادم ہوا، واقعہ پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکرنے کہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والا بد امنی کا حالیہ واقعہ یونیورسٹی کو بدنام کرنے کے لئے سوچی سمجھی سازش ہے کیونکہ صبح 4:45 پر کسی قسم کی طلباء سرگرمی نہیں ہو رہی تھی جس سے طلباء اشتعال میں آتے، یہ مسئلہ دو طلبہ تنظیموں میں پچھلے دو سال سے چل رہا ہے تاہم اب یونیورسٹی نے اس کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کرلیا ہے، یونیورسٹی انتظامیہ کی بنائی گئی کمیٹی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے کر واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کر رہی ہے جس کے بعد ہم ایف آئی آر درج کروائیں گے اور مزید کارروائی یونیورسٹی کی انتظامیہ کرے گی، دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے اس معاملے پر فوری رپورٹ طلب کر لی ہے، جب کہ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کو موقع دینا چاہئے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بغیر اس مسئلے کو حل کرے مزید براں اگر یونیورسٹی سمجھتی ہے کہ حالات ان کے قابو سے باہر ہیں تو ہمیں ذمہ داروں کے نام دیے جائیں ۔

loading...