اشاعت کے باوقار 30 سال

ترک کارروائی ’دہشت گردی کی معاونت‘ کے مترداف ہے

ترک کارروائی ’دہشت گردی کی معاونت‘ کے مترداف ہے

دمشق،پیرس: شامی صدر بشار الاسد نے ترک فوج کی طرف سے شامی علاقے عفرین میں کرد باغیوں کے خلاف شروع کیے جانے والے فوجی آپریشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عسکری کارروائی ’دہشت گردی کے تعاون‘ کے مترادف ہے۔ ترک فوج اتوار کی صبح شامی باغیوں کی مدد سے عفرین میں داخل ہو گئی۔ شامی صدر کا الزام ہے کہ ترکی شام میں دہشت گردوں کو تعاون فراہم کرتا ہے۔ ادھر ترکی نے کہا ہے کہ ملکی سالمیت کی خاطر شام میں یہ کارروائی ناگزیر تھی۔ دوسری جانب شام میں ترک افواج کی براہ راست کارروائی پر فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے ترک ہم منصب سے یہ کارروائی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ غوطہ، ادلب اور عفرین میں جاری جنگ بندی کی خاطر سلامتی کونسل کو فوری قدم اٹھانا چاہیے۔ ترک فوج نے بروز ہفتہ شامی علاقے عفرین میں کارروائی شروع کی تھی جبکہ اتوار کے دن ترکی کی بری افواج بھی شام میں داخل ہو گئیں۔

loading...