اشاعت کے باوقار 30 سال

امریکا کو دوسرے ممالک کے بارے میں بات کرنے سے باز رہنا چاہیے

امریکا کو دوسرے ممالک کے بارے میں بات کرنے سے باز رہنا چاہیے

بیجنگ: چین نے امریکی ایڈمرل کے ایک تنقیدی بیان پر کہا ہے کہ امریکا کو دوسرے ممالک کے بارے میں بات کرنے سے باز رہنا چاہیے۔چینی وزارتِ خارجہ نے امریکی کمانڈر برائے یو ایس پیسفک کمانڈ ایڈمرل ہیری ہیرس کے اس بیان پر اپنا ردِ عمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی طرف سے آسیان کے تین اہم ممالک کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ساؤتھ چائنا سی پر ان کا بھی حق ہے۔ اس تناظر میں ایڈمرل ہیری ہیرس نے کہا تھا کہ ’چین انڈ و پاک خطے میں ایک ایسی ارتقائی قوت ہے جو انتشار کی وجہ بن رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے نئی دہلی کے دورے پر ایک پینل ملاقات کے دوران کہی تھی۔ ان کے ساتھ بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سنیل لانبا نے بھی کہا تھا کہ ’چین علاقے میں انتشار کا باعث بننے والی قوت ہے جس میں قوت اور اعتماد کی کمی بھی ہے‘۔ اس بیان کے ردِ عمل پر دیتے ہوئے چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لیو کینگ نے کہا کہ اس سے قبل چین نے ان تین ممالک کا کوئی مؤقف نہیں سنا لیکن اب وہ (امریکی) اس بارے میں کہہ رہے ہیں اور امریکا کو ان ممالک کے بارے میں نہیں بولنا چاہیے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ہم اربوں ڈالر سے شروع ہونے والے بیلٹ اینڈ روڈ انشی ایٹو (بی آر آئی) کے ذریعے روابط کو بہتر بنانا چاہتے ہیں ہے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ قدم تباہ کن ہے تو ہم ان ممالک سے اس بارے میں خود براہِ راست بات کرسکتے ہیں‘۔ خیال رہے کہ امریکی ایڈمرل نے اپنی تقریر میں ویت نام، ملائیشیا اور فلپائن کا حوالہ دیا تھا کہ چین ان کی آبی حدود پر اپنا دعویٰ دائر کر رہا ہے۔ ایڈمرل نے یہ بھی کہا تھا کہ ویت نام، ملائیشیا اور فلپائن اس معاملے پر بے چینی کا شکار ہیں۔ یاد رہے کہ ان پانیوں اور اس سے وابستہ وسائل پر ایسوسی ایشن آؤٹ ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز ( پسیان) ممالک بھی اپنا حق جتاتے ہیں جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔

loading...