اشاعت کے باوقار 30 سال

جعلی خبروں کو روکنے کے لئے فیس بک کا اہم قدم

جعلی خبروں کو روکنے کے لئے فیس بک کا اہم قدم

لندن: فیس بک نے گزشتہ ہفتے اپنی نیوز فیڈ میں سب سے بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب اس میں اشتہارات اور خبروں کے مقابلے عام لوگوں کی پوسٹیں زیادہ نظر آئیں گی۔ تاہم فیس بک کے اس اعلان کے محض 5 دن بعد یہ خبر سامنے آئی کہ اس تبدیلی سے سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں تیزی سے اور زیادہ پھیلنے کا امکان ہے۔ امریکی میڈیا میں شائع رپورٹس کے مطابق نیوز فیڈ میں تبدیلی ہوتے ہی چند ممالک میں جعلی خبریں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ جن ممالک میں نیوز فیڈ میں تبدیلیوں کا تجربہ کیا جا رہا ہے، وہاں جعلی خبریں پوری سروس میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہیں۔ تاہم اب فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اس حوالے سے اہم تبدیلی کا اعلان کر دیا۔ مارک زکربرگ نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ نیوز فیڈ میں تبدیلی کے دوسرے مرحلے میں فیس بک پر ایک سروے کیا جائے گا، جس میں صارفین سے ان کی پسند سے متعلق تجویز حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیس بک پر ایک سروے کے ذریعے لوگوں سے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ صارفین کس طرح کا مواد یا خبریں دیکھنا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ فیس بک پر اچھی اور معیاری معلومات، خبروں اور پوسٹوں کو ترجیح دی جائے گی۔ مارک زکربرگ نے یہ بھی بتایا کہ نیوز فیڈ میں تبدیلی کے بعد اب صارفین کو وہاں پر صرف 4 فیصد خبریں دیکھنے کو ملیں گی، جو اس سے قبل 5 فیصد ہوتی تھیں۔ مارک زکربرگ کا اپنی لمبی چوڑی پوسٹ میں کہنا تھا کہ فیس بک اس سروے میں صارفین سے ایسے سوالات کرے گا کہ وہ کس طرح کے ذرائع سے ملنے والے مواد یا خبروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ یہ سروے کچھ مشکل ہو گا، تاہم اس کے ذریعے فیس بک کو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی کہ ان کے صارفین کس طرح کی خبریں دیکھنا چاہتے ہیں، جس کے بعد ہی وہ لوگوں کی پسند کے مطابق مواد کو ترجیح دیں گے۔

loading...