اشاعت کے باوقار 30 سال

امریکہ نے فلسطین کے لیے امداد روک دی

امریکہ نے فلسطین کے لیے امداد روک دی

واشنگٹن: امریکہ نے فلسطین میں فلاحی منصوبوں کے لیے اقوام متحدہ کے ذریعے دی جانے والی ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی امداد روکنے کا اعلان کر دیا۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کو 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد دینا تھی لیکن اب امریکہ صرف چھ کروڑ ڈالر دے گا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ فلسطین کے اسرائیل کے ساتھ قیامِ امن کے اقدامات کو رد کرنے پر امریکہ امداد میں کمی کر سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کے مجموعی فنڈ میں سے 30 فی صد امریکہ امداد پر مشتمل ہے۔ گذشتہ سال امریکہ نے اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کو 37 کروڑ ڈالر دے تھے۔ اس سے پہلے فلسطین کے صدر محمود عباس نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے امن منصوبے پر شدید تنقید کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے بعد سے وہ امریکی امن منصوبے کو قبول نہیں کریں گے۔ فلسطینی صدر نے اسرائیل پر اوسلو معاہدے کو ختم کرنے کا الزام بھی عائد کیا، جس کے تحت قیامِ امن کے لیے بات چیت شروع ہوئی تھی۔ امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان نے واضح کیا کہ اس کٹوتی کا مقصد 'سزا' دینا نہیں ہے بلکہ امریکہ فلاحی ایجنسی میں اصلاحات چاہتا ہے۔ امریکی اہل کار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'مزید بات چیت تک ساڑھے چھ کروڑ ڈالر روک لیے گئے ہیں۔ 'انھوں نے بتایا کہ 'اب وقت ہے کہ دوسرے ممالک، جو کافی امیر بھی ہیں سامنے آئیں اور علاقائی سلامتی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ امریکہ کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ 'امریکہ کو امداد کے بدلے، تعریف یا احترام نہیں ملتا ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کو گذشتہ برس 37 کروڑ ڈالر دیے تھے جب کہ یورپی یونین نے امریکی امداد کے مقابلے میں نصف رقم دی تھی۔ اقوامتحدہ کی ایجنسی برائے ریلیف اینڈ ورک فلسطین میں تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر رقم خرچ کرتی ہے۔ یو ایس ایڈ کے ذریعے امریکہ نے فلسطین کو 26 کروڑ ڈالر دیے۔ دوسری جانب امریکہ اسرائیل کو ہر سال تین ارب ڈالر سے زیادہ رقم عسکری امداد کی مد میں دیتا ہے۔

loading...