اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

سیارہ پلوٹو کی دریافت

حکومت کی خارجہ پالیسی بری طرح ناکام ہو گئی ہے

حکومت کی خارجہ پالیسی بری طرح ناکام ہو گئی ہے

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ حکومت افغانستان اور ایران سمیت اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات درست رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جس امریکہ کی غلامی کرتے ہوئے حکمرانوں نے ہزاروں شہری مروائے اور ایک سو تیس ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا، وہ بھی پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ نواز شریف نے ملک کا مستقل وزیر خارجہ مقرر کرنے کی بجائے چار سال تک خارجہ امور کا قلمدان بھی اپنے پاس رکھا۔ موجودہ غیر یقینی صورتحال کی ذمہ دار براہ راست حکومت ہے۔ تعلیم، صحت اور عدالتی نظام کی ناکامی کے اصل ذمہ دار نواز شریف ہیں جو بار بار اختیار ملنے کے باوجود کسی ایک ادارے کو ٹھیک نہیں کر سکے اور اب عدالتوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ موجودہ حکومت جس کا چل چلاؤ ہے اور جسے اپنے صبح و شام کا پتہ نہیں، اسے پی آئی اے کی فروخت جیسے بڑے فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ حکومت اپنے معاملات درست کرے۔ اپنے اعمال کا حساب دے اور الیکشن کرانے کی تیاری کرے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کو انصاف دلانے کے لیے طاہر القادری کے ساتھ ہیں اور جماعت اسلامی کا اعلیٰ سطحی وفد کل کے احتجاج میں شریک ہو گا۔ زینب زیادتی و قتل کیس کے مجرم تلاش کرنے میں ناکامی پر عوام کا حکومت پولیس اور سیکورٹی اداروں پر اعتماد اٹھ گیا ہے۔ شہباز شریف اگر مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے تو رات کے اندھیرے کے بجائے دن کی روشنی میں زینب کے والد سے جا کر تعزیت کرتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی شوریٰ کے سہ روزہ اجلاس سے افتتاحی خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم، قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ، خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر عنایت اللہ خان اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک کو غیر یقینی صورتحال سے نکالنے اور موجودہ مسائل کا واحد حل ملک میں آئین کے مطابق بروقت انتخابات کا انعقاد ہے۔ ماضی کی طرح جھرلو اور جانبدارانہ انتخابات کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔ انتخابات کو حرام دولت کے بل بوتے پر اغوا کرنے اور انتخابی عملے اور نظام کو یرغمال بنانے کی اب کوئی سازش کامیاب نہیں ہو گی۔ عوام اچھی اور پائیدار جمہوریت کے لیے بے لاگ اور بے رحم احتساب چاہتے ہیں۔ ماضی میں حرام خور حرام کی دولت خرچ کر کے پولنگ عملے اور الیکشن کے نتائج بدلتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت سیاست اور معیشت پر جن سیاسی و معاشی دہشتگردوں نے قبضہ کر رکھا ہے، وہ مسلح دہشتگردوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں مگر اب ان کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اب انہیں دولت اور بدمعاشی کے زور پر اقتدار کے ایوانوں اور قومی اداروں پر قبضے کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لیے ان چوروں اور لٹیروں سے نجات ضروری ہے جنہوں نے قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک جمع کی اور عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی ضروریات سے محروم رکھا۔ جمہوریت کے حوالے سے لوگ شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ ملک کو آئین اور میرٹ پر چلانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات کے ساتھ ساتھ احتساب بھی ہو۔ سراج الحق نے کہا کہ ہم نے عدالت عظمیٰ میں پانامہ لیکس کے دیگر کرداروں کے احتساب کے لیے پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محض نواز شریف کی نااہلی سے احتساب کا عمل پورا نہیں ہو سکتا۔ جب تک لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں ملتی، قوم کو کوئی ریلیف ملے گا نہ ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی سے آزاد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ شرم کی بات ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود چودہ شہدا کے قاتل پکڑے گئے نہ مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی۔ ایک ایف آئی آر درج کروانے کے لیے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرنا اور دھرنے دینا پڑے، جمہوری دامن پر بدنما داغ اور عدالتوں کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ ہماری پولیس اور سیکورٹی ادارے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں اس لیے وہ حکمرانوں اور اشرافیہ کی حفاظت کو ہی اپنا فرض سمجھتے ہوئے حکمرانوں اور ان کے خاندان کے پروٹوکول میں مصروف رہتے ہیں اس لیے عوام کو اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی دوسرا انتظام کرنا پڑے گا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی کی دیانتدار قیادت ہی ملک کو مسائل کی دلدل سے نکال سکتی ہے۔ حکومت اپنے منشور پر عمل درآمد نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 2018ء کے انتخابات میں ایک بڑی عوامی قوت بن کر ابھرے گی اور ہم پہلا کام ظالم جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کا احتساب کریں گے۔

loading...