اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

سیارہ پلوٹو کی دریافت

زینب کیس؛ اہم شخصیات کے ڈی این اے ٹیسٹ کی تجویز

زینب کیس؛ اہم شخصیات کے ڈی این اے ٹیسٹ کی تجویز

لاہور: درندگی کا شکار ہونے والی زینب کے قاتل تک پہنچنے کے لئے پنجاب پولیس نے علاقے کی تمام اہم شخصیات کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کی تجویز دی ہے ۔ جنسی درندگی کا شکار ہونے والی 12 میں سے 8 بچیوں میں ایک ہی بڑا آدمی ملوث ہے ۔ افراتفری میں تفتیش کرنے والی پنجاب پولیس نے پہلے سے مطلوب شخص کا خاکہ جاری کر کے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اپنی پھرتیوں کا ثبوت دے دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس کے دو افسران کے درمیان ہونے والی زینب قتل کیس کے حوالے سے آڈیو گفتگو نے حقائق کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے یہ آڈیو گفتگو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکی ہے ۔اس آڈیو گفتگو میں بتایا گیا ہے کہ معصوم بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے 12 واقعات میں سے 8 واقعات ایسے ہیں جن میں ایک ہی شخص ملوث ہے کیونکہ 8 واقعات کے ڈی این اے ٹیسٹ ایک ہی جیسے پائے گئے ہیں اس آڈیو میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے جاری کیا گیا دوسرا خاکہ بھی جعلی ہے کیونکہ یہ خاکہ پہلے سے وانٹڈ شخص کا ہے ۔ آئی جی پنجاب کو دی جانے والی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زینب کے ساتھ ظلم کرنے والا شخص وہی ہے جس نے اس سے پہلے سات معصوم بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنایا اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ بچوں پر جنسی حملے کرنے والا شخص انتہائی بااثر اور امیر آدمی ہے کیونکہ بچوں کو اغواء کرنے والا گروہ الگ ہے اور زیادتی کرنے والا ایک شخص الگ ہے تفتیشی افسران کی طرف سے افسران کو تجویز دی گئی ہے کہ قاتل تک پہنچنے کے لئے قصور سے تعلق رکھنے والی تمام شخصیات جن میں ایم پی اے اور ایم این اے اور وزراء بھی شامل ہیں کہ ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جائیں سوشل میڈیا پر موجود آڈیو ٹیپ میں بتایا گیا ہے کہ معصوم بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے والا عادی مجرم ہے اور ایسے حملے بچوں پر مزید بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ خطرناک قاتل کو بچوں کے ساتھ زیادتی کا نشہ لاحق ہے پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اغواء کار قصور شہر سے باہر سے آتے ہیں اور بچوں کو اغوا کر کے قاتل تک پہنچا کر غائب ہو جاتے ہیں واضح رہے کہ ایک سال کے دوران جنسی درندگی کے قصور میں ہونے والے 12 واقعات میں سے 8 میں مماثلت ہے ان میں 6 کیس صدر ڈویژن کے ہیں ایک کیس بی ڈویژن اور 5 کیس اے ڈویژن کے ہیں ان میں سے صرف ایک بچی زندہ بچ سکی ہے جو دماغی توازن کھو چکی ہے ۔

loading...