اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

سیارہ پلوٹو کی دریافت

نکاسی آب کے بڑے پائپوں میں شاندار رہائشی یونٹ

نکاسی آب کے بڑے پائپوں میں شاندار رہائشی یونٹ

ہانگ کانگ: دنیا کے مصروف اور گنجان آباد شہروں میں مکانات عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو کر اب رہائشی بحران اختیار کر چکے ہیں۔ اب ہانگ کانگ کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی نے نکاسی آب کے بڑے بڑے پائپوں کے ایک ٹکڑے میں شاندار رہائشی یونٹ بنائے ہیں۔ ان چھوٹے گھروں کو ’اوپوڈ ٹیوب ہاؤس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ایک اسٹارٹ اپ کمپنی نے یہ کام شروع کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہانگ کانگ میں اوسط تنخواہ والے افراد کےلیے اپنا مکان خریدنا اب قصہ پارینہ بن چکا ہے اسی لیے اب کنکریٹ کے پائپوں میں رہائشی یونٹ قائم کیے جارہے ہیں۔گزشتہ 12 ماہ سے وہاں کے مکانات کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب حال یہ ہے کہ مکانات کی قیمت 7 لاکھ روپے فی مربع فٹ تک پہنچ چکی ہے۔ اسی لیے وہاں مکانات کی قیمت پورے ایشیا میں بلند ترین ہو گئی ہے۔ ہانگ کانگ کی 10 فیصد آبادی اب پنجرے نما گھروں میں رہ رہی ہے۔ اس کے حل کےلیے اب اوپوڈ ٹیوب ہاؤس کا تصور پیش کیا گیا ہے جو بہت مقبول ہورہا ہے۔ ایک بڑے پائپ کا قطر آٹھ فٹ ہے۔ یہ گھر ان کےلیے بنایا گیا ہے جو اپنا گھر نہیں بناسکتے۔
پائپ کے مکان میں دو افراد رہ سکتے ہیں اور گھر کے اندر صوفہ نما بینچ، ضرورت پڑنے پر بستر بن جاتی ہے۔ ایک چھوٹا فریج، شاور کے ساتھ باتھ روم اور ذاتی اشیا اور کپڑوں کے لیے اضافی جگہ بنائی گئی ہے۔ ایک ٹیوب کا وزن 22 ٹن ہے لیکن ٹیوبوں کو جوڑنے اور مکان تعمیر کرنے میں زیادہ وقت اور محنت نہیں لگتی اور انہیں سڑک کنارے بھی تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
اسے بنانے والی کمپنی کے مطابق ہانگ کانگ میں بعض عمارتیں اتنی قریب تعمیر کی جاتی ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اور گھر نہیں بنایا جا سکتا البتہ ان کے درمیان دو تین پائپ گھر
بآسانی سما سکتے ہیں۔ یہ گھر پلوں کے نیچے اور تنگ گوشوں میں رکھے جا سکتے ہیں۔

loading...