اشاعت کے باوقار 30 سال

امریکی سفارت خانہ کی یروشلم منتقلی کا منصوبہ صدی کا طمانچہ ہے

 امریکی سفارت خانہ کی یروشلم منتقلی کا  منصوبہ صدی کا طمانچہ ہے

غزہ: فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطی میں امن کوششوں کو 'اس صدی کا طمانچہ' قرار دیا ہے۔فلسطینی رہنماؤں سے ایک ملاقات میں انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ امریکہ کے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد ان کی جانب سے کسی امن منصوبے کو قبول نہیں کریں گے۔انھوں نے اسرائیل پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ اوسلو سمجھوتے کو بھی ختم کر رہا ہے جس کے تحت 1995 سے امن عمل شروع ہوا تھا۔فلسطینی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرکے امریکہ ایک غیر جانب مذاکرات کار نہیں بن سکتا۔فلسطینی رہنماؤں نے رملہ میں دو دن ملاقات کی اور اس کے بعد صدر ٹرمپ کے اقدام کا جواب دیا۔اقوامِ متحدہ کی جانب سے امریکی فیصلے پر مذمت کے حوالے سے رائیشماری کے بعد محمود عباس پہلے ہی اس ماہ کے اوائل میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کو مسترد کر چکے ہیں۔رملہ میں دیگر فلسطینی رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’اس صدی کا یہ معاہدہ در اصل اس صدی کا طمانچہ ہے جسے ہم قبول نہیں کریں گے۔ ‘میں کہہ رہا ہوں کہ کوئی اوسلو (سمجھوتہ) نہیں رہا، اسرائیل نے اسے ختم کر دیا ہے۔‘محمود عباس نے بتایا کہ انہیں یروشلم سے باہر ایک گاؤں ابو دیس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی پیش کش کی گئی ہے۔اسرائیلی اور فلسطینی دونوں اس 'مقدس' شہر پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں اور اس کا تنازع بہت پرانا ہے۔یروشلم اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ بھی ہے۔ یہ شہر مسلمانوں، یہودیوں اور مسیحیوں تینوں کے نزدیک اہمیت کا حامل ہے۔

loading...