اشاعت کے باوقار 30 سال

قطری شاہی خاندان کے رکن کا متحدہ عرب امارات پر قید کرنے کا الزام

قطری شاہی خاندان کے رکن کا متحدہ عرب امارات پر قید کرنے کا الزام

ابو ظہبی: قطری شاہی خاندان کے ایک رکن شیخ عبداللہ بن علی الثانی نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر خود کو قید کرنے کا الزام لگا دیا۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شیخ عبداللہ بن علی الثانی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا، 'میں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں قید ہوں'۔ ان کا کہنا تھا، 'میں اس وقت ابوظہبی میں ہوں، میں یہاں شیخ محمد کا مہمان تھا، لیکن اب میں یہاں مہمان نہیں ہوں، میں ایک قیدی ہوں'۔ شیخ عبداللہ بن علی الثانی کا مزید کہنا تھا، 'انہوں نے مجھے جانے سے منع کیا ہے، مجھے ڈر ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کا الزام قطر پر لگا دیا جائے گا، میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو قطر کے لوگوں کا اس میں کوئی قصور نہیں ہو گا'۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا، 'میں شیخ محمد کا مہمان ہوں اور اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار صرف وہ ہوں گے'۔ یہاں وہ بظاہر متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید کا ذکر کر رہے تھے۔ شیخ عبداللہ، 1960 میں قطر کے امیر رہنے والے شیخ علی بن عبداللہ الثانی کے بیٹے ہیں۔ وہ کافی عرصے سے منظر عام سے غائب تھے، تاہم گذشتہ برس خیلجی ممالک کے تنازع کے دوران وہ سامنے آئے، جب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر پر الزامات لگاتے ہوئے اس کا زمینی، فضائی اور سمندری راستہ بند کر دیا تھا۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ شیخ عبداللہ اپنی مرضی سے امارات میں مقیم تھے۔ متحدہ عرب امارات کے انسداد دہشت گردی مرکز کے سربراہ الراشد النوآئمی نے وضاحت کی کہ شیخ عبداللہ کہیں بھی آنے جانے کے لیے آزاد ہیں۔ شیخ عبداللہ کی اس ویڈیو کے رد عمل میں قطری وزارت خارجہ کی ترجمان للوا الخاطر کا کہنا تھا کہ 'دوحہ اس صورت حال کا جائزہ لے رہا ہے'۔

loading...