اشاعت کے باوقار 30 سال

ہمارے خدشات کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا

ہمارے خدشات کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا

اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ ترمپ کی افغان پالیسی کے حوالے سے ہمارے خدشات کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا اور ہم چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کی افغان پالیسی پر ہمارے تحفظات کو سنا اور سمجھا جائے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے امریکی مطالبے کے ساتھ پاکستان نے بھی امریکا کے سامنے اپنے مطالبات رکھے ہیں جن میں افغانستان اور دیگر علاقائی ایشوز کے حوالے سے اسلام آباد کے خدشات اور تحفظات کو دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان معطل کی گئی امداد کی بحالی میں زیادہ فکرمند نہیں بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ واشنگٹن اس کے تحفظات کو دور کرے، افغانستان اور دیگر ملکوں کے ساتھ منسلک امور پر نظر رکھے اور مسائل کے حل میں پاکستان کی مدد بھی کرے۔حکام کے مطابق پاکستان کو دو قسم کے خدشات ہیں، ایک براہ راست افغان پالیسی کے حوالے سے اور دوسرا امریکا کی خطے کے بارے میں مجموعی پالیسی کے حوالے سے۔
واشنگٹن کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے امریکی پالیسی پر ترمپ انتظامیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قربانیوں کا اعتراف کرے اور افغان مہاجرین کے بارے میں بھی اپنا کردار اد اکرے۔

پاکستان نے بار بار ان الزامات کی تردید کی ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہیں ہیں تاہم ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین کی موجودگی کی وجہ سے اس بات کا امکان بھی ہے کہ بعض عناصر ریاست مخالف سرگرمیوں کیلیے اس کی سرزمین استعمال کررہے ہیں۔

loading...