اشاعت کے باوقار 30 سال

کینیڈا، حملہ آور نے مسلم لڑکی کا حجاب قینچی سے کاٹ ڈالا

کینیڈا، حملہ آور نے مسلم لڑکی کا حجاب قینچی سے کاٹ ڈالا

ٹورنٹو: کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی واقعے میں شر پسند شخص نے 11 سالہ مسلمان لڑکی کے سر سے حجاب اتار کر قینچی سے کاٹ ڈالا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورنٹو کے مصروف اور گنجان آباد علاقے میں دن دیہاڑے پیش آیا جہاں تاک میں بیٹھے شر پسند نے بھائی کے ساتھ جانے والی مسلمان لڑکی پر حملہ کر کے اسکارف کھینچ ڈالا، لڑکی کے شور مچانے پر حملہ آور وہاں سے فرار ہو گیا تاہم کچھ منٹ بعد موقع ملنے پر اس نے دوبارہ حملہ کر دیا اور قینچی سے اسکارف کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ حملے کا شکار لڑکی خولہ نعمان نے بتایا کہ وہ چھٹی جماعت کی طالبہ ہے اور اسکول میں بھی اسکارف اوڑھ کر اپنے سر کو ڈھانپ کر رکھتی ہے،’جب مجھ پر حملہ کیا گیا تو میں خوف زدہ ہو گئی اور زور زور سے چلائی، میرے چیخنے پر حملہ آور بھاگ گیا لیکن وہ چھپ چھپ کر ہمارے پیچھے آیا اور دوبارہ سر سے اسکارف کھینچ کر قینچی سے کاٹ دیا‘۔ اسکول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے انہیں شدید دھچکا پہنچا ہے اور وہ مسلمان لڑکیوں کی سیکورٹی کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے ان کا دل ہل کر رہ گیا ہے میں متاثرہ لڑکی ان کے خاندان اور مسلمان کمیونٹی کو بتانا چاہتا ہے یہ حملے کینیڈا کی شناخت کے برعکس ہے، جو واقعہ پیش آیا ہمارا چہرا بالکل ایسا نہیں ہے۔ ادھر پولیس نے واقعے کی تفصیلات حاصل کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج اور دستیاب شواہد کی روشنی میں ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔ پولیس نے واقعے کے بعد مسلمانوں کے لیے سیکورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ واضح رہے کہ کیوبک صوبے کی عدالت نے گزشتہ ماہ عوامی خدمات کے شعبوں میں کام کرنے والی مسلمان خواتین کے لیے حجاب کرنا یا منہ کو نقاب سے ڈھانپنے کی حکومتی پابندی کو جزوی طور پر معطل کیا تھا۔اسلام فوبیا کے شکار ملک کینیڈا میں مسلمان کے خلاف نفرت آمیز واقعات کا تسلسل برقرار ہے جس میں خاص طور پر باحجاب خواتین اور لڑکیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

loading...