اشاعت کے باوقار 30 سال

نواز شریف اداروں پر تنقید کر کے بہت غلط کر رہے ہیں

نواز شریف اداروں پر تنقید کر کے بہت غلط کر رہے ہیں

حیدر آباد: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نواز شریف اداروں پر تنقید کر کے بہت غلط کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا بانی چیئرمین ایک عدالتی قتل کے ذریعے گنوایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آصف علی زرداری جیل میں تھے تو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے تنہا عدالتوں کا سامنہ کیا اور وہ ایک ایک دن میں اپنے بچوں کے ساتھ چار چار کورٹس میں پیش ہوتی تھی مگر کبھی عدالتوں کے لیے اور اداروں کے لیے غلط زبان استعمال نہیں کی۔ نواز شریف کو چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی فائدے کے بجائے ملک کے بارے میں سوچیں اور اگر انہیں عدالت نے نااہل کر دیا ہے تو اس کا راستہ بھی عدالت ہی ہے کیونکہ جلسوں میں جا کر اداروں کو برا بھلا کہنا درست نہیں ہے۔ وہ قاسم آباد حیدر آباد میں اپنے والد اور سابقہ وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ کے پرائیویٹ سیکریٹری عابد قریشی کے چہلم میں شرکت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی ان پر سیاسی بنیاد پر بنائے گئے مقدمات کا عدالتوں میں سامنا کیا اور ان پر جیل میں تشدد بھی ہوا مگر انہوں نے جلسوں میں عدالتوں کے خلاف بات کرنے کے بجائے قانونی طریقے سے تمام مقدمات کا سامنا کیا اور ان میں بری ہوئے اس لیے اگر نواز شریف سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف کچھ غلط ہوا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ بھی عدالت سے ہی رجوع کریں اور قوم کو مشکل میں نہ ڈالیں کیونکہ ہمارا ملک پہلے ہی مشکل صورتحال سے دو چار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں اتنا قرضہ نہیں لیا گیا جتنا ن لیگ کی حکومت نے چار پانچ سالوں میں لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا ہے تب سے 2013 تک ڈومیسٹک قرضہ تقریباً 100 ارب ڈالر تھا اور اب یہ قرضہ 155 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں جب پی پی پی نے اپنی حکومت کی مدت پوری کی تو ہماری ایکسپورٹس تقریباً 25 ارب ڈالر تھی جو کہ آج 20 ارب ڈالر سے بھی کم ہو گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حیدر آباد سمیت پورے سندھ میں بلا تفریق ترقیاتی کام کروائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لوگوں کی ڈیمانڈ کو مدنظر رکھ کر اسکیمیں بناتی ہے اور یہ تاثر بلکل غلط ہے کہ ترقیاتی کاموں میں حیدر آباد کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ تھر میں ہونے والی بچوں کی شرح اموات ملک کے کسی اور علاقے سے زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی حکومت میں تھر میں صحت کی جتنی سہولیات فراہم کی گئی ہیں وہ مثالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں ہسپتالوں میں پہلے ایسی سہولیات نہیں تھیں جو آج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں ہم نے واٹر سپلائی، اسکولوں اور سڑکوں کی جن اسکیموں پر کام کیا ہے وہ پہلے کبھی نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں جو وسائل ہیں آنے والے وقت میں تھر صوبے کے بڑے شہروں سے بہتر نظر آئے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا کام حیدر آباد میونسپل کارپوریشن کا ہے اور ہم نے اس کام کے لیے انہیں ان کے شیئرز کے مطابق فنڈز بھی دیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بھی بنایا تھا مگر اس پر کام تب ہی ہو سکتا ہے جب میونسپل کارپوریشن حیدر آباد اس پر کام کرنے کی اجازت دے اور اس ضمن میں معاہدہ کرے جس طرح کراچی کے 4 اضلاع میں وہاں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کی مرضی سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں طویل عرصے بعد سڑکیں دھلتی ہیں اور صفائی کے بہتر انتظام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدر آباد کی لوکل کاؤنسلز بھی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سے رابطہ کرے کیونکہ ہم نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے مگر اب تک ہمیں مثبت جواب نہیں ملا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قصور واقعہ صوبائی حکومت کی مکمل ناکامی ہے اور اس واقعہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد احتجاج کرنے والوں پر پولیس نے سیدھی گولیاں چلائیں جس سے لوگوں کی اموات ہوئیں جو کہ انتہائی افسوسناک ہے اور کہا کہ جمہوریت میں سب کو احتجاج کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی اساتذہ نے مظاہرہ کیا اور تب تک انہیں منتشر نہیں کیا گیا جب تک وہ پرامن تھے مگر جب انہوں نے ریڈ زون میں داخل ہونے اور قانون کی خلاف ورزی کی تو پولیس نے انہیں معمولی اقدامات کرتے ہوئے منتشر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت اور اظہار آزادی پر یقین رکھتے ہیں لیکن لوگوں کو تکلیف میں ڈالنے یا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ گزشتہ روز کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں ہونے والے واقعہ اور پولیس موبائل میں حلیم عادل شیخ کا ملزم کے ساتھ سلوک کیے جانے کے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ معاملے کی انکوائری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے واقعہ کے بعد بروقت صورتحال کو کنٹرول کیا۔

loading...