اشاعت کے باوقار 30 سال

سعودی عرب میں فٹبال میچ کے دوران نئی تاریخ رقم ہو گئی

سعودی عرب میں فٹبال میچ کے دوران نئی تاریخ رقم ہو گئی

ریاض، جدہ: سعودی عرب میں خواتین نے اسٹیڈیم میں جا کر مردوں کا میچ دیکھ کر ایک نئی تاریخ کر دی اور یہ پہلا موقع تھا کہ سعودی عرب میں خواتین نے اسٹیڈیم میں جا کر میچ دیکھا۔ گزشتہ سال مرکزی اسپورٹس حکام نے اعلان کیا تھا کہ 2018 سے ریاض، جدہ اور دمام میں فیملیز کو اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کی اجازت ہو گی۔ جدہ میں سعودی پریمیئر لیگ کے میچ میں ال اہلی اور ال باتن کے درمیان کھیلے گئے میچ میں خواتین نے اپنے بچوں، دوستوں اور بہن بھائیوں کے ہمراہ اسٹیڈیم جا کر میچ دیکھ کے نئی تاریخ رقم کر دی۔ روایتی کالے عبایا میں ملبوس خواتین نے فیملیز کے ہمراہ اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لئے آںے والوں کا استقبال کیا۔ میچ دیکھنے کے لئے اسٹیڈیم میں آںے والی خاتون نے کہا کہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا لیکن خدا شکر ہے کہ بروقت یہ فیصلہ کر لیا گیا اور مجھے امید ہے کہ مستقبل خواتین کے لئے اور بھی زیادہ خوبصورت ہو گا۔ یاد رہے کہ قدامت پسند ملک تصور کیے جانے والے سعودی عرب نے حالیہ عرصے میں خصوصا خواتین کے حوالے سے چند اہم فیصلے کرتے ہوئے ملک کو روشن خیالی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش شروع کی گئیں اور خواتین کو مخلوط عوامی اسپورٹنگ مقابلوں میں شرکت کی پہلی مرتبہ اجازت دی گئی۔ گزشتہ روز جدہ میں خصوصی طور پر خواتین کے لئے پہلی گاڑیوں کی نمائش کا انعقاد کیا گیا جہاں چند ماہ قبل خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی تھی۔ ریاض میں بھی ایک فٹبال میچ کھیلا جائے گا اور اس میچ میں بھی خواتین کی بڑی تعداد میں آمد کی توقع ہے۔ اس تمام تر تبدیلیوں کا سہرا 32 سالہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سر ہے جو ملک کو ایک نئی جہت پر گامزن کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

loading...