اشاعت کے باوقار 30 سال

ہندو گروؤں کی جعل سازیوں پر مبنی فلم کو نمائش کی اجازت

ہندو گروؤں کی جعل سازیوں پر مبنی فلم کو نمائش کی اجازت

ممبئی: بولی وڈ مسٹر پرفیکشنسٹ کی فلم ’پی کے‘ تو بھارت میں مختلف مذاہب کی جعل سازیوں کو فاش کرنے پر مبنی تھی، جس وجہ سے شاید اسے روکا نہیں گیا، تاہم سنی دیول کی ایک فلم گزشتہ 2 سال سے پابندی کا شکار تھی۔اگرچہ بولی وڈ میں سیاسی و تاریخی واقعات کی فلموں کو بھی پابندی یا کافی عرصے تک بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم اس حوالے سے مذہبی معاملات پر بنی فلموں کو زیادہ ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کی مثال سنی دیول کی فلم ’ محلہ آسی‘ بھی ہے، جسے 2 سال کی قانونی جنگ کے بعد عدالت نے ریلیز کرنے کی اجازت دیدی، تاہم اس کے باجوود سینسر بورڈ نے فلم کو ’اے‘ سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔ایسی فلموں میں تشدد، حساس موضوعات اور نامناسب سین ہوتے ہیں، جس وجہ سے انہیں صرف بالغان کے لیے محدود کیا جاتا ہے۔ایسٹرن آئی کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے 2 سال تک کیس کی سماعت کے بعد سنی دیول کی فلم ’محلہ آسی‘ کے حق میں فیصلہ دیا۔عدالت کی جانب سے اجازت ملنے کے فوری بعد سی بی ایف سی نے بھی اسے سرٹفیکیٹ جاری کردیا، تاہم فلم کی ٹیم کا کہنا ہے کہ اسے فوری طور پر ریلیز نہیں کیا جائے گا۔

loading...