اشاعت کے باوقار 30 سال

قصور کے واقعہ نے حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کی قلعی کھول دی

قصور کے واقعہ نے حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کی قلعی کھول دی

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ قبائلی عوام کے مطالبے پر قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی جیورسٹیکشن کو قبائلی علاقے تک توسیع دینا فاٹا کے عوام کی بہت بڑی فتح ہے مگر ایف سی آر کے مکمل خاتمہ، فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کا تین فیصد حصہ مختص نہ کرنا افسوسناک ہے اور حکومت بلاوجہ قبائلی عوام کو پریشان کر رہی ہے۔ قبائلی عوام کے ان حقوق کے حصول کے لیے جماعت اسلامی جدوجہد جاری رکھے گی۔ بلوچستان اسمبلی میں وفاقی حکومت کی خواہش کے خلاف جو کچھ ہوا، اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ حکومت کی گرفت ڈھیلی پڑ چکی ہے اور معاملات اس کے کنٹرول میں نہیں رہے۔ قصور کے لرزہ خیز واقعہ نے حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے اور گڈ گورننس کے نعروں کو خاک میں ملا دیا ہے اور ثابت ہو گیا ہے کہ عوام اور ان کے بچے غیر محفوظ ہیں، سیکورٹی صرف حکمرانوں کا استحقاق ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تربیت گاہ سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر سید لطیف الرحمن شاہ بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ سپریم کورٹ کی فاٹا تک توسیع انسانی حقوق کی بحالی اور ایف سی آر کے کالے قوانین کے خاتمہ کی طرف اہم پیشرفت ہے لیکن حکومت نے جزوی اقدامات کر کے دودھ میں مینگنیاں ڈال دی ہیں۔ حکومت کو قبائلی عوام کے دیرینہ مطالبے پورے کرتے ہوئے ایک جامع بل اسمبلی میں لانا چاہیے تھا جس میں ایف سی آر کے مکمل خاتمہ، فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی علاقوں کے لیے تین فیصد حصے کا اعلان کیا جاتا۔ حکومت نے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے باوجود ادھورا کام کر کے قبائلی عوام کو ملک کے دیگر علاقوں کے عوام کے برابر لانے کا موقع ضائع کر دیا ہے۔ تمام امور کو ایک بل میں لانے سے قبائل کے متعلقہ قانون سازی کا کام ایک ہی بل میں مکمل ہو جانا تھا مگر حکومت ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کے ذریعے اپنا وقت پورا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک قبائلی عوام کو ملک کے دیگر علاقوں کے عوام کو حاصل آئینی حقوق مل نہیں جاتے، جماعت اسلامی چین سے نہیں بیٹھے گی۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں کی اب تک کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ حکومت کے پاس عوام کے مسائل کا کوئی حل نہیں اور نہ ہی حکومت کی نیت ہے۔ لوگوں کو جان، مال اور عزت کا تحفظ حاصل نہیں۔ پاکستان کا عام آدمی محرومیوں کی تصویر بنا ہوا بے روزگاری اور غربت کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔ موجودہ حکمرانوں میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ عام آدمی کو مسائل کی اس دلدل سے نکال سکیں بلکہ حکمران عوام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ تین بار حکومت کے مزے لوٹنے والوں کو صرف اپنے مفادات کی فکر رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر کے اس نظام میں مظلوم کی شنوائی ناممکن ہے۔ حکمران دعوے کرتے ہیں کہ وہ عوام کے مسائل سے آگاہ ہیں مگر ان کی ناکامیوں کو دیکھ کر ثابت ہوتا ہے کہ وہ اندھے گونگے اور بہرے ہیں جنہیں عوام کی چیخ و پکار سنائی نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں نظام مصطفے ٰؐ کے نفاذ کی جدوجہد کر رہی ہے تاکہ لوگوں کو انصاف ان کی دہلیز پر مل سکے۔

loading...