اشاعت کے باوقار 30 سال

ملزمان کو دنوں میں نہیں گھنٹوں میں گرفتار کر لیں گے

ملزمان کو دنوں میں نہیں گھنٹوں میں گرفتار کر لیں گے

اسلام آباد: وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ میں ایوان میں کھڑے ہو کر بطور پاکستانی اور بطور ذمہ دار وزیر قصور واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں، بھاگیں گے نہیں واقعہ کی تہہ تک پہنچیں گے، پنجاب حکومت کی کوششوں کو جھٹلانا نہیں چاہئیے، دنوں میں نہیں گھنٹوں میں ملزمان کو گرفتار کر لیں گے، ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم مک مکا کرتے ہیں، آج تصدیق کرتا ہوں سی پیک کے حصول، فاٹا ریفارمز اور ایسے تمام قومی معاملات جس میں ملک و ملت کے دورس مثبت نتائج نظر آتے ہیں وہاں ہم ضرور مک مکا کرتے ہیں۔ جمعہ کے روز قومی اسمبلی اجلاس میں قصور واقعہ پر اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات میں اس سے قبل سامنے آنے والے مجرموں میں قریبی عزیز اور اساتذہ برادری کے افراد ملوث پائے گئے تھے قصور واقعہ میں جن افراد پر شبہ ہے وہ گرفتار ہیں ہمیں یقین ہے کہ پنجاب پولیس اور جے یو آئی ٹی دنوں مل کر جلد حقائق تک پہنچ جائیں گی مگر دوسری طرف واقعہ کے ردعمل میں ملکی املاک کو نقصان پہنچائے جانے کی حرکت قابل مذمت ہے اس واقعہ میں دو درجن سے زائد پولیس افسران و اہلکار زخمی ہیں جبکہ سی پی او آفس سمیت مسلم لیگ (ن) کے متعدد اراکین قومی اسمبلی کے گھروں کا گھیراؤ بھی کیا گیا اس واقعہ کی آڑ میں عوام شہریوں کے گھروں کو جلانے کے لئے اکسانا ناقابل معافی جرم ہے اس پر یتن مقدمات درج کی گئی ہیں اور فوٹیج موجود ہیں جن میں لوگوں کو اکسایا جا رہا ہے 32 افراد گرفتار کئے گئے ہیں جن کے علاوہ چند درجن مزید افراد مطلوب ہی آج کے دن وہاں مکمل امن و امان ہے میں یہاں پر بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے واقعات کی آڑ میں ہمیں ذاتی انتقام نہیں لینا چاہیے ہمیں اس معاملے پر بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے آج پنجاب پولیس کی دیکھا دیکھی دیگر صوبے بھی اپنی پولیس میں ریفارمز لا رہے ہیں آئندہ ایسے واقعات سے نمٹنے کے لئے خصوصی کمیٹی بنائی جائے اور سیاسی جماعتوں کے کردار کو بھی مدنظر رکھا جائے صوبائی حکومتوں کو اٹھارہویں ترمیم کے بعد پولیسنگ میں ریفارمز کی ذمہ داری بنتی ہے اور اب صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پولیس میں ایسی ریفارمز لائیں جن کے مثبت نتائج عوام کو ملیں۔

loading...