اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

قصور میں حالات معمول پر آنے لگے

 قصور میں حالات معمول پر آنے لگے

قصور: ننھی زینب کے سفاکانہ قتل کے بعد 2 روز سے جاری ہنگامہ آرائی اب تھم گئی اور حالات معمول پر آنے لگے۔ تفصیلات کے مطابق قصور میں کم سن زینب سے زیادتی و قتل کے خلاف دو روز سے جاری شٹر ڈاؤن ہڑتال اور جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ اب تھم گیا ہے اور حالات معمول پر آنے لگے ہیں۔ شہر میں ٹرانسپورٹ کا پہیہ بھی چل پڑا تاہم ہفتہ وار تعطیل کی وجہ سے بڑی مارکیٹیں اور دکانیں بند ہیں۔ ایک موقع پر شہری احتجاج کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال کے باہر جمع ہونا شروع ہوئے لیکن رینجرز اور خصوصی پولیس اینٹی رائٹس فورس کی بھاری نفری اسپتال پہنچ گئی اور شہریوں کو منتشر کر دیا۔ شہر بھر میں میونسپل عملے کی طرف سے صفائی کا عمل شروع کر دیا گیا لیکن مشتعل مظاہرین کی جانب سے جلائی گئی گاڑیوں کے تباہ شدہ ڈھانچے اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں ۔ قصور میں رینجرز کی بھاری نفری تعینات ہے اور تمام علاقوں میں فلیگ مارچ بھی متوقع ہے۔ ننھی زینب کے اہل خانہ سے تعزیت کے لئے آج بھی دن بھر مختلف سیاسی، مذہبی و سماجی شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب ایک کروڑ روپے کے انعام کے باوجود ابھی تک ملزم گرفتار نہیں ہو سکا ہے، چار مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے تفتیش جاری ہے تاہم کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ زیر حراست ملزمان کے نمونے پنجاب فرانزک اینڈ سائنس لیبارٹری بھیج کر نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے جب کہ سچ اور جھوٹ جاننے کے لیے ملزموں کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کروایا جائے گا۔

loading...