اشاعت کے باوقار 30 سال

قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا امن خراب نہیں ہونے دیں گے

قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا امن خراب نہیں ہونے دیں گے

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن مربوط منصوبے کے تحت ملک میں امن قائم کر لیا جو اب خراب نہیں ہونے دیں گے ہم چاہتے ہیں افغانستان میں امن قائم ہو۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک انٹرویو میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام آپریشن مختلف تھے لیکن پاکستانی قوم نے ثابت کیا ہم پر عزم قوم ہیں، پاکستان نے اس جنگ میں 100 فی صد نتائج دیے اور ملک میں امن قائم کرتے ہوئے ہدف حاصل کر لیا لیکن افغانستان کچھ نہ کر سکا جب کہ چاہتے ہیں کہ افغانستان سے کوئی ادھر ادھر نہ آ جا سکے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈرمینجمنٹ امن کے لئے ضروری ہے جب کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ جڑی اپنی 2600 کلومیٹر سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا ہے، بارڈر مینجمنٹ سے متعلق مکینزم پر افغانستان کو دستاویزات بھی بھیجے ہیں اور اگر بارڈر مکینزم طے پا گیا تو سرحد کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغانستان جنگ سے پہلے پاکستان میں دہشت گردی نہیں تھی اور اب پاکستان کو افغان جنگ سے پہلے والی پر امن صورت حال پر لے جانا چاہتے ہیں جب کہ پاکستان نے بہت سی معلومات افغانستان سے شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا، افغانستان جنگ میں پاک فوج کے تمام چیفس نے بہترین کام لیا، جنرل کیانی نے انسداد دہشت گردی جنگ کی منصوبہ بندی کی۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری سے ظاہر ہو گیا کہ بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تناظر میں بلوچستان بہت اہم ہے، پاک فوج کی پوری توجہ بلوچستان کی طرف ہے اور پاکستان کا بارڈر ایران کے ساتھ بھی لگتا ہے، ایران سے بارڈر کمیونی کیشن بہتر ہو رہی ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ عمومی امن کو پائیدار امن میں بدلنا آرمی چیف جنرل باجوہ کا مشن ہے ہم نے اپنی طرف امن قائم کر لیا اب افغانستان کو بھی امن قائم کرنا ہو گا، قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا امن خراب نہیں ہونے دیں گے۔

loading...