اشاعت کے باوقار 30 سال

صحرائے اعظم میں ایک بار پھر برف باری

صحرائے اعظم میں ایک بار پھر برف باری

صحارا : صحرائے اعظم یا صحارا دنیا کا سب سے بڑا صحرا ہے اور یہ خشک ترین ہونے کے ساتھ ساتھ گرم ترین بھی ہے جب کہ کہا جاتا ہے کہ یہاں پانی کے بغیر کچھ دن گزارنا بھی ممکن نہیں۔ تو یہ دنیا کا وہ آخری مقام ہو سکتا ہے جہاں آپ برف کو دریافت کرنے کا سوچ سکتے ہیں کیونکہ یہاں کا سردیوں کا اوسط درجہ حرارت ہی 30 سینٹی گریڈ ہے۔ مگر قدرت کے کرشمے سے کون انکار کر سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس صحرا کا کچھ حصہ غیر متوقع طور پر سفید ہو گیا۔ یہ چالیس برسوں میں تیسری بار ایسا ہوا ہے اور وہ بھی دنیا کے گرم ترین خطے میں، جس کی توقع کسی کو نہیں تھی۔ شمال مغربی الجزائر میں برفباری دیکھنے میں آئی تھی جب کہ دسمبر 2016 کے آخر میں اسی ملک کے صحرائی قصبے این صفارا میں ایسا ہوا تھا، تاہم اس بار صرف آدھے گھنٹے تک ہی برف گری تھی۔ اس خطے میں عموماً موسم انتہائی گرم ہوتا ہے اور یہ اوسطاً 37 ڈگری تک رہتا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق اٹلانٹک میں سردی کی لہر نے مشرقی امریکا کو تو جما دیا ہے اور اس کے اثرات کے باعث مراکش میں شدید برفباری بھی دیکھنے میں آئی، جہاں سے کچھ حصہ صحارا میں بھی چھڑکاؤ کر کے چلا گیا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا 'ہم ایک بار پھر برف باری دیکھ کر حیران رہ گئے جو کہ پورا دن رہی اور پانچ بجے شام پگھلنا شروع ہوئی'۔

loading...