اشاعت کے باوقار 30 سال

سوئس بینکوں میں موجود 200 ارب ڈالر کی واپسی نا ممکن

سوئس بینکوں میں موجود 200 ارب ڈالر کی واپسی نا ممکن

اسلام آباد: نئے ٹیکس قوانین کے ذریعے بھی سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی جانب سے چْھپائے گئے 200 ارب ڈالر کو وطن واپس نہیں لایا جا سکتا۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو ٹیکس حکام نے تصدیق کی ہے کہ ڈبل ٹیکسیشن معاہدے کے باوجود ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ نئے قوانین پرانی ٹرانزیکشن پر لاگو نہیں ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق نئے معاہدے کا اطلاق جنوری 2018 میں ہونے والی ٹرانزیکشنز سے ہو گا۔ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی جانب سے رکھی گئی رقم کا معاملہ ادارے کے دائرہ اختیار سے باہر ہے تاہم ٹیکسیشن کے مقصد کے لیے معلومات حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ 2014 میں اْس وقت کے وزیر خزانہ نے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا تھا کہ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر موجود ہیں اور حکومت ٹیکسیشن معاہدے میں تبدیلی کے بعد یہ رقم واپس پاکستان لائے گی۔ اس حوالے سے ڈاکٹر محمد اقبال کا کہنا تھا کہ نئے معاہدے کے تحت (جسے ابھی سوئس پارلیمنٹ سے منظوری ملنا باقی ہے)، صرف خاص مقاصد کے لیے ٹیکسیشن کی معلومات کا تبادلہ ممکن ہو گا۔

loading...