اشاعت کے باوقار 30 سال

تھائی لینڈ کے وزیر اعظم کا صحافیوں کے سوالات سے بچنے کا انوکھا طریقہ

تھائی لینڈ کے وزیر اعظم کا صحافیوں کے سوالات سے بچنے کا انوکھا طریقہ

نوم پنھ: تھائی لینڈ کے وزیراعظم نے صحافیوں کے تند و تیز سوالات سے بچنے کا انوکھا طریقہ اپنایا جسے انسانی حقوق کی تنظیم شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ کے وزیر اعظم اور سابق آرمی چیف پرایوتھ چن اوچا نے صحافیوں کے سوالوں سے بچنے کے لیے کاغذ کے گتے کے اپنے متعدد مجسمے بنا رکھے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تھائی وزیر اعظم کی قد و قامت سے ملتے جلتے تقریباً 17 مجسمے تیار کیے گئے ہیں جن میں وزیر اعظم مختلف پوز دے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں تھائی لینڈ میں بچوں کا دن منایا گیا، اس موقع پر پرایوتھ نے گورنمنٹ ہاؤس میں طویل خطاب کیا جس کے بعد ان کا گتے کا ایک مجسمہ لا کر ان کے برابر میں کھڑا کر دیا گیا۔ پرایوتھ نے مجسمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ ’’ آپ ان سے سوالات کر سکتے ہیں‘‘۔ یہ سن کر صحافی ہکے بکے رہ گئے، اس معاملے کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر تو خاص توجہ حاصل نہ ہو سکی البتہ ہیومن رائٹس واچ نے اس پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ’’یہ تھائی وزیر اعظم کے صحافیوں سے بے تکے سلوک کی تازہ مثال ہے‘‘۔ تھائی لینڈ میں ہیومن رائٹس واچ کے محقق سونائی پھاسوک نے بتایا کہ تھائی لینڈ کے آمر وزیر اعظم میڈیا کا سامنا کرنے کی جرات نہیں رکھتے اور ان میں تنقید کو سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔ تھائی لینڈ میں ہر سال جنوری کے دوسرے ہفتے بچوں کا دن منایا جاتا ہے، اس روز فوجی اڈوں کو بچوں کے لیے کھول دیا جاتا ہے جہاں بچے ہتھیاروں اور ٹینکوں کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں جبکہ بچوں کو وزیر اعظم کے دفتر میں بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ 2014 میں تھائی لینڈ میں فوج نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد سے وہاں میڈیا سمیت مختلف شعبوں میں پابندیاں بڑھا دی گئی ہیں۔

loading...