اشاعت کے باوقار 30 سال

ڈزنی لینڈ پارک

ڈزنی لینڈ پارک

والٹ ڈزنی کارٹون کی دنیا کا بے تاج بادشاہ کہلاتا ہے وہ اکثر اپنے بچوں کے ساتھ سیر کے لیے جایا کرتا تھا زیادہ تر سیر گاہیں بڑوں کے لیے ہوتی تھیں اور بچوں کے لیے ان میں برائے نام ہی چند چیزیں تفریح کے لئے ہوتی تھیں جب کہ جو جگہیں بچوں کے لیے ہوتی تھیں وہاں بڑے بور ہو جایا کرتے تھے اس نے سوچا کہ اسے کوئی ایسا پارک تعمیر کرنا چاہیے جہاں بچے اور بڑے یکساں طور پر لطف اندوز ہو سکیں بعض اوقات چھوٹا سا آئیڈیا بھی پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا سبب بن جاتا ہے قسمت کے دھنی وائٹ ڈزنی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا 1953 میں اس نے امریکہ کی مشہور ریاست کیلیفورنیا کے شہرہ آفاق شہر لاس اینجلس کے گرد و نواح میں ایک سو ساٹھ ایکڑ زمین خریدی اور اس پر ایسا پارک تعمیر کروایا جہاں بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی بچوں کی طرح ہی لطف اندوز ہونے لگے آہستہ آہستہ یہ پوری دنیا کا سب سے زیادہ مشہور پارک بن گیا اور لوگ خاص طور پر ڈزنی لینڈ پارک کا وزٹ کرنے کے لیے امریکہ کے ویزے کے لیے اپلائی کرنے لگ گئے 1955 میں جب اس پارک کو لوگوں کے لیے کھولا گیا تو پہلے سال ہی 10 لاکھ سیاحوں نے اس پارک کی سیر کی جو
دیکھتے ہی دیکھتے ہر سال دگنا ہوتی گئی یہاں تک کہ والٹ ڈزنی کو محسوس ہوا کہ اب اسے اسی طرز کا دوسرا پارک امریکہ کے دوسرے حصے میں تعمیر کروانا چاہیے تاکہ سیاح رش محسوس کرنے کی بجائے اسے اچھی طرح انجوائے کر سکیں اور امریکی معیشت میں بھی یہ مثبت طور پراثر انداز ہو تقریباً دس سال بعد جب پہلے ڈزنی لینڈ میں سیاحوں کی تعداد پینسٹھ لاکھ تک پہنچ گئی تو اس نے امریکی ریاست فلوریڈ ا میں اپنے دوسرے ڈزنی لینڈ پارک کا آغاز کیا آج ڈزنی لینڈ امریکہ کے علاوہ تین مزید ملکوں میں موجود ہے جس میں جاپان ( ٹوکیو) ، فرانس ( پیرس ) اور چین ( ہانگ کانگ ) شامل ہیں جب کہ دنیا کے چھٹے ڈزنی لینڈ کی تعمیر اس وقت چین کے دوسرے شہر شنگھائی میں جاری ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ 2016 میں کھل جائے گا اس وقت ڈزنی لینڈ کے تمام پارکس کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ وزٹ کیے جانے والے پارکس میں ہوتا ہے صرف امریکہ کے دونوں ڈزنی لینڈ پارکس کو سالانہ تین کروڑ سے زائد سیاح دیکھنے کے لئے آتے ہیں جب کہ جاپان اور فرانس میں بھی ڈیڑ ھ کروڑ کے قریب سیاح فی پارک سالانہ وزٹ کے لیے آتے ہیں جب والٹ ڈزنی نے کیلیفورنیا کے شہر ایناہائیم میں اپنے پہلے ڈزنی لینڈ پارک کا آغاز کیا تو اس وقت شہر میں صرف 7 ہوٹل تھے جن کے کمرے کل ملا کر 87 بنتے تھے اور کھانے کے لیے صرف 34 ریسٹوران تھے آج اس شہر میں ڈیڑ ھ سو سے زائد ہو ٹل ہیں جن کے اٹھارہ ہزار سے زائد کمرے ہیں اور تقریباً 500 کے قریب ریسٹوران موجود ہیں یعنی ایک شخص کی سوچ نے کس طرح پورے شہر کی معیشت چینج کر دی اور اس نا معلوم شہر کو ساری دنیا میں مشہور کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں کے شہریوں کو مختلف اقسام کے روز گار کی فراہمی کے باعث خوش حال بنا دیا ڈزنی لینڈ پارک میں سب سے زیادہ توجہ صفائی پر دی جاتی ہے جس کے باعث وہ ہر روز یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اسے آج ہی سیر کے لیے پہلے دن کھولا گیا ہو وہاں چیونگم کی فروخت پر بھی اسی لیے پابندی عائد کی گئی ہے کہ کہیں سیاح جگہ جگہ تھوک کر پارک کی خوبصورتی کو نقصان نہ پہنچائیں ہر روز پارک بند ہونے کے بعد تمام گلیوں اور سڑکوں کو دھویا جاتا ہے ڈزنی لینڈ پارک میں روزانہ تیس ٹن سے زائد کوڑا کرکٹ نکالا جاتا ہے اور اسے ضائع کرنے کی بجائے دوبارہ استعمال میں لانے کے لیے مختلف اقسام کی اشیاء کو علیحدہ کر کے ری سائیکل کیا جاتا ہے ایک انداز ے کے مطابق ہر سال ڈزنی لینڈ سے کوڑا کرکٹ سے 40 لاکھ پاؤنڈز گتہ ، تیرہ لاکھ پاؤنڈز سبزہ ، چار لاکھ پاؤنڈز کاغذ ، چار لاکھ پاؤنڈز شیشہ ، تین لاکھ پاؤنڈز پلاسٹک ، سترہ ہزار پاؤنڈز ایلومینیم (ری سائیکل) دوبارہ استعمال میں لایا جاتا ہے ڈزنی لینڈ پارک میں کام کرنے والے ہر ملازم کے بیج لگا ہوتا ہے جس پر اس کا نام لکھا ہوتا ہے تاکہ غیر ضروری لوگ انتظامیہ کے کاموں میں مداخلت نہ کر سکیں اور انتظامیہ چاک و چوبند ہو کر تمام سیاحوں کی خدمت کے لیے اپنی بھر پور ذمہ داری کو ادا کرے دنیا کی سب سے مشہور مشروبات کی کمپنی کوکا کولا اپنی تشہیر کے لئے اس پارک میں مفت سوڈا فراہم کرتی ہے ایک وہ وقت تھا جب امریکہ کے مشہور نیوز چینل ABC نے ڈزنی لینڈ کی شہرت کو دیکھتے ہوئے اس کے شیئرز خریدے تھے آج نہ صرف ڈزنی لینڈ کمپنی خود اے بی سی نیو ز چینل کی مالک ہے بلکہ اس کا شمار نشریاتی اداروں کی فہرست میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہوتا ہے آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ڈزنی لینڈ پارک کی سیر وہاں کے بچوں کی سب سے بڑی خواہش جانی جاتی ہے اگرچہ والٹ ڈزنی اس دنیا میں موجود نہیں رہے لیکن انہوں نے اپنی محنت لگن اور کوششوں سے ایسا مقام حاصل کیا ہے کہ ان کا شمار دنیا کی چند مشہور ترین شخصیات میں ہوتا ہے آج ہمارے ملک کو بھی چند اسی طرح کے مخلص اور محنتی لوگوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف اپنے علاقے کی خوش حالی کا باعث بن سکیں بلکہ دنیا میں پاکستان کے بارے میں مثبت امیج کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں بد قسمتی سے ہمارے ہاں آنے والے زیادہ تر حکمران اپنا نام تو بنا گئے مگر پاکستان کے لیے وہ نقصان کا باعث ہی رہے انہوں نے قومی مفادات کو پس پشت رکھتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات میں ہی عرصہ حکمرانی گزار دیا ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں راہ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

تحریر: وقاص اشفاق بشکریہ: پینا نیوز

نوٹ: ادارہ اردو ٹائمز کا قلم کار کے نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں

loading...