اشاعت کے باوقار 30 سال

چھ عرب ممالک میں انکم ٹیکس سے استثنیٰ

چھ عرب ممالک میں انکم ٹیکس سے استثنیٰ

ریاض ، دبئی، کویت سٹی ، عمان، دوحا: انکم ٹیکس حکومتوں کے لیے ملکی اخراجات پورے کرنے کا ایک انتہائی اہم ذریعہ ہے جو عوام کی آمدنی پر طے شدہ طریقہ کار کے تحت مخصوص شرح میں وصول کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ترقی پذیر اور امیر ترین ممالک میں انکم ٹیکس کا نظام رائج ہے لیکن دنیا میں کچھ ایسی ریاستیں بھی ہیں جو ایک فیصد بھی انکم ٹیکس وصول نہیں کرتیں اور اس فہرست میں عرب دنیا کے 6 خوبصورت اور امیر ممالک شامل ہیں جہاں کے عوام انکم ٹیکس فری زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ سالانہ آمدنی کے اعتبار سے متحدہ عرب امارات متعدد ریاستوں کا ایک اتحاد ہے جہاں اوسط فی کس آمدنی 49 ہزار امریکی ڈالرز ہونے کے باجود انکم ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔ دنیا میں آئل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک سعودی عرب ہے جس نے تنخواہ دار طبقے پر کوئی انکم ٹیکس نافذ نہیں تاہم ذاتی کاروبار کرنے پر 20 فیصد ٹیکس کی شرح لاگو ہے۔ کویت کا شمار عرب دنیا کی امیر ترین ریاستوں میں ہوتا ہے یہاں پر کوئی انکم ٹیکس نافذ نہیں البتہ پیشہ ور شخص اپنی آمدنی کا ساڑھے 7 فیصد سماجی سیکیورٹی کی غرض سے ادا کرتا ہے۔ جغرافیائی اور محل وقوع کے لحاظ سے مشرق وسطی کا اہم ملک عمان ہے جو انکم ٹیکس فری ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس ملک کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ خام تیل کی پیداوار ہے۔قدرتی گیس کی دولت سے مالا مال قطر دنیا میں فی کس آمدنی فراہم کرنے والا امیر ترین ملک ہے، لاکھوں روپے اوسط آمدنی کے باوجود یہاں انکم ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔ اس ملک کی وجہ شہرت تیل کی پیداوار ہے یہاں کے عوام بہت خوش حال ہیں لیکن یہاں بھی آمدنی پر ٹیکس کا کوئی تصور نہیں۔

loading...