اشاعت کے باوقار 30 سال

شمالی اور جنو بی کوریا کا ملٹری ہاٹ لائن بحال کرنے کا فیصلہ

شمالی اور جنو بی کوریا کا ملٹری ہاٹ لائن بحال کرنے کا فیصلہ

پیا نگ یا نگ: شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے حوالے سے شروع ہونے والی کشیدگی کے دو سال بعد جنوبی کوریا سے ہوئے پہلے مذاکرات میں اپنی ٹیم کو اولمپک میں حصہ لینے کے لیے ہمسایہ ملک بھیجنے کا اعلان کر دیا۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان طویل عرصے بعد یہ مذاکرات سرحد کے قریب غیرمسلح علاقے میں واقع گاؤں پنمنجوم میں ہوئے۔ مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے فروری 2016 سے منقطع عسکری مذکرات کو ملٹری ہاٹ لائن میں بحال کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔ یاد رہے کہ شمالی کوریا نے 1998 میں جنوبی کوریا میں منعقدہ سرمئی گیمز کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو نہیں بھیجا تھا تاہم اس مرتبہ اولمپک انتظامیہ اور سول حکومت ہمسائیہ ملک کو اگلے ماہ شروع ہونے والے 'پیس اولمپکس' گیمز میں شریک دیکھنا چاہتی ہے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جون ان کی جانب سے نئے سال کے پہلے خطاب سے قبل اپنی ٹیم کو ان گیمز میں شرکت کے لیے بھیجنے کے حوالے سے کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 'شمالی کوریا اپنے قومی اولمپک کمیٹی کے وفد سمیت ایتھلیٹس، چیئرلیڈرز، آرٹسٹ، تماشائی، تائیکوانڈو کی ایک ٹیم اور پریس کے وفد کو ہمسائیہ ملک بھیجے گا جب کہ جنوبی کوریا اس ٹیم کو تمام ضروری سہولیات اور مراعات فراہم کرے گا۔ مذاکرات میں جنوبی کوریا کے یونی فیکیشن کے وزیر چومیونگ گیون اور شمالی کوریا کے وفد کی سربراہی ری سن گون نے کی اور مذاکرات کی ٹیبل میں بیٹھنے سے قبل دونوں رہنماؤں نے ہاتھ ملا کر خیر سگالی کا اظہار کیا۔ شمالی کوریا کی جانب سے 6 سے زائد جوہری دھماکوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی تھی تاہم طویل عرصے بعد ہونے والے مذاکرات کا ماحول دوستانہ تھا۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے وفد کا کہنا تھا کہ جوہری معاملات اس مذاکرات کا حصہ نہیں تھے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جوہری اور ہائیڈروجن بم کے علاوہ آئی سی بی ایمز سمیت دیگر خطرناک ہتھیاروں کے معاملات کا ہمارا ہدف امریکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دیگر امور حل طلب تھے۔اولمپک انتظامیہ نے شمالی کوریا کی شرکت کا خیرمقدم کیا ہے جب کہ جنوبی کوریا کی وزارت یونی فیکیشن کا کہنا ہے کہ گیمز دنیا بھر کے عوام کے لیے ایک امن کا فیسٹول ثابت ہوں گے۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر تھامس بیچ کا کہنا تھا کہ پیانگ یانگ کا گیمز میں حصہ لینے کا فیصلہ اولمپک کے اسپرٹ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے تاحال صرف دو ایتھلیٹس نے اولمپک مقابلوں میں جگہ بنائی تھی تاہم جنوبی کوریا میں اس سے قبل ہونے والے مقابلوں میں چیئر لیڈرز کی بڑی تعداد شامل رہی ہے۔ جنوبی کوریا کی رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کی حکمران جماعت ورکرز پارٹی کی سنیئر رہنما اور کم جونگ کی چھوٹی بہن یوجونگ سمیت اعلیٰ سطحی وفد شرکت کر سکتا ہے۔ وزارت یونی فیکیشن کے مطابق ان مذاکرات نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے اور صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے بنیاد رکھ دی ہے۔ خیال رہے کہ ان مذاکرات کی راہ اس وقت ہموار ہوئی تھی جب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ نے نئے سال کے اپنے پہلے خطاب کے دوران اعلیٰ سطحی مذاکرات کی پیش کش کی تھی جس کے بعد دوسال سے منقطع ایک ہاٹ لائن کو بھی بحال کر دیا گیا تھا۔ ادھر امریکہ کے محکمہ خارجہ نے شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں ہونے والی بات چیت میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ اصل مقصد جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے صاف کرنا ہے۔

loading...