اشاعت کے باوقار 30 سال

بھارت نے کشمیر کو ایک بڑے جیل خانہ میں تبدیل کر دیا ہے

بھارت نے کشمیر کو ایک بڑے جیل خانہ میں تبدیل کر دیا ہے

سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے کو ایک پولیس اسٹیٹ اور بڑے جیل خانہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں اظہار رائے کی آزادی اور پر امن سیاسی سرگرمیوں پر قدغن عائد ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق محمد یاسین ملک نے سرینگر سینٹرل جیل سے جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں حریت رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کی گرفتاریاں، جیلوں اور پولیس اسٹیشنوں میں نظربندی، کرفیو اور قدغنیں روز کا معمول بن چکا ہے اور لوگوں کو مظالم کا نشانہ بنانے کے لئے کریک ڈاؤن آپریشنز ایک عام بات ہے۔ انہوں نے کٹھ پتلی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ تمام مظالم وہی نام نہاد حکمران ڈھا رہے ہیں جو لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے خیالات کی جنگ، گولی نہیں بولی اور ہیلنگ ٹچ کے مفروضے بیچتے رہتے تھے۔ یاسین ملک نے کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ کی ایماء پر نہتے کشمیریوں کو بدترین مظالم کا نشانہ بناتے ہوئے شہید، نظربند اور بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے جبکہ بچوں اور نوجوانوں سمیت لوگوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مقبوضہ علاقے میں پرامن سیاسی سرگرمیوں پر قدغن عائد ہے جبکہ شدید ترین سرد موسم میں کریک ڈاؤن کر کے خاص طور پر جنوبی کشمیر کے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا گیا ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ ان بدترین مظالم کے بعد بھی کٹھ پتلی حکمران ڈھٹائی، بے شرمی اور منافقت کی حد پار کر رہے ہیں اور وہی میٹھے زہرآلود نعرے دے کر لوگوں کو دھوکہ دینے اور ان کی تحریک آزادی کو شکست دینے کے خواب بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے کشمیر کو ایک بڑے جیل خانے اور پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں کوئی بھی متنفس اپنی آزادانہ مرضی سے سانس تک نہیں لے سکتا اور یہ سبھی جبر و ظلم آپریشن آل أوٹ کے نام پر کیا جا رہا ہے جس کا مقصد بھارتی جابرانہ تسلط کے خلاف کشمیریوں کی مزاحمت کو ختم کرنا اور آزادی و حق خودارادیت کے لئے کشمیریوں کی تڑپ اور جذبے کو شکست دینا ہے۔ لبریشن فرنٹ کے سربراہ نے کہا کہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ آزادی اور حق خود ارادیت کے لئے لڑنے والی کمزور قوموں کو اس قسم کے جبر کا سامنا رہا ہے لیکن یہ ظلم و جبر نا ہی انہیں ہراپایا اور نہ آزادی کی جانب ان قوموں کی پیش قدمی کو کسی صورت میں روک سکا ہے۔ اسی تناظر میں ہم بھی کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والے بھارت اور اس کی کٹھ پتلی انتظامیہ پر باور کرانا چاہتے ہیں کہ ان کا یہ ظلم و جبر بھی کشمیریوں کے ارادوں اور حوصلوں کو شکست نہیں دے سکے گا اور کشمیری کبھی بھی ان کے سرینڈر نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ بھارتی پولیس نے گزشتہ روز محمد یاسین ملک کو آبی گزر میں پارٹی دفتر سے گرفتار کر سرینگر سینٹرل جیل میں نظر بند کر دیا تھا۔

loading...