اشاعت کے باوقار 30 سال

شریف خاندان کے خلاف مزید تین گواہوں کے بیان قلمبند

شریف خاندان کے خلاف مزید تین گواہوں کے بیان قلمبند

اسلام آباد: اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز میں مزید تین گواہوں کے بیان قلمبند اور جرح مکمل ہونے کے بعد عدالت نے مزید چھ گواہوں کو طلبی کے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے 9 جنوری تک سماعت ملتوی کر دی۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر خان نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی۔ فاضل جج نے نے شروع کی تو شپ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ ان لینڈ یونیو کے افسر محمد تسلیم نے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ کمشنر ان لینڈ ریونیو فضاء بتول کے حکم پر نیب آفس گیا‘ نیب راولپنڈی کے سامنے پیش ہوا۔ 21 اگست کو نیب راولپنڈی میں جہانگیر احمد بھی موجود تھے۔ نواز شریف‘ حسن نواز اور حسین نواز کا ویلتھ ٹیکس ریکارڈ جمع کرایا۔ جہانگیر احمد نے تفتیشی افسر کو انکم ٹیکس کا ریکارڈ فراہم کیا۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے گواہ کے بیان پر جرح کی اور پوچھا کہ کیا ریکارڈ کی تصدیق آپ کے سامنے ہوئی؟ جس پر گواہ نے بتایا کہ فضا بتول نے میرے سامنے ریکارڈ کی تصدیق نہیں کی۔ فضاء بتول ابھی تک کمشنر ان لینڈ ریونیو کے عہدے پر تعینات ہیں۔ تفتیشی افسر نے فضاء بتول اور شبانہ عزیز سے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا۔ گواہ تسلیم نے بیان مکمل ہونے پر نواز شریف سے ہاتھ بھی ملایا۔ استغاثہ کے دوسرے گواہ زاور منظور نے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ کلرک محمد رشید نے گیارہ صفحات پر مشتمل دستاویزات جمع کروائیں جن میں چار صفحات پر مشتمل لندن کوئین بنچ کا حکمنامہ بھی جمع کرایا گیا۔ ریکارڈ تفتیشی افسر نے میری موجودگی میں تحویل میں لیا۔ میں نے بطور گواہ ریکارڈ پر دستخط کئے۔ تفتیشی افسر کے سامنے 6 ستمبر 2017 کو پیش ہوا۔ یاد نہیں کہ منظور رضا بنگش کا بیان حلفی اصل تھا یا نہیں۔ محمد رشید کا بیان میرے سامنے ریکارڈ کیا گیا لیک محمد رشید کا بیان فائل میں جمع کرایا گیا ریکارڈ سیل بند نہیں تھا۔ سدرہ منپور کا بیان میری موجودگی میں ریکارڈ کیا گیا۔ سدرہ نے اصل اور تصدیق شدہ ریکارڈ جمع کرایا۔ گواہ زاور منظور کے بیان پر وکیل صفائی خواجہ حارث اور مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے بھی جرح کی۔ جس کے بعد عدالت نے مزید 6 گواہان جس میں عمر دراز‘ تسلیم‘ زبیر‘ ریحان اور سدرہ منصور شامل ہیں کو طلبی کا سمن جاری کرتے ہوئے سماعت 9 جنوری تک ملتوی کر دی۔

loading...