اشاعت کے باوقار 30 سال

میرا جوہری حملے کا بٹن زیادہ بڑا اور طاقتور ہے

میرا جوہری حملے کا بٹن زیادہ بڑا اور طاقتور ہے

واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے حالیہ بیان کے رد عمل میں انہیں دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی میز پر بھی جوہری بٹن ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا، 'شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا کہنا ہے کہ ایٹمی حملے کا بٹن ان کی میز پر ہوتا ہے، براہ کرم کوئی ان کی غریب اور غذائی قلت کی شکار ریاست کو اطلاع دے دے کہ میرے پاس بھی جوہری حملے کا بٹن موجود ہے، جو بہت بڑا اور طاقتور ہے اور میرا بٹن کام بھی کرتا ہے' یاد رہے کہ یکم جنوری کو سالِ نو کے موقع پر اپنے ٹی وی پیغام میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے دھمکی دی تھی کہ ایٹمی حملے کا بٹن ان کی میز پر ہوتا ہے اور امریکا کبھی بھی پیونگ یانگ کے خلاف جنگ شروع کرنے کے قابل نہیں ہو گا۔ کم جونگ ان کا مزید کہنا تھا، 'یہ محض دھمکی نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے کہ میرے دفتر کی میز پر ایک ایٹمی بٹن موجود ہے'۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا، 'پورا امریکا ہمارے ہتھیاروں کی رینج میں ہے اور ہماری ساری توجہ بیلسٹک میزائل اور ایٹمی وار ہیڈ کو آپریشنل بنانے پر ہے'۔جنوری 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد جہاں امریکا نے بہت سے غیر معمولی اقدامات اٹھائے وہاں شمالی کوریا کے خلاف بھی سخت پابندیاں عائد کیں لیکن اس کے باوجود شمالی کوریا اپنے جوہری منصوبے کی تکمیل سے پیچھے نہ ہٹا اور امریکی پابندیوں کے رد عمل میں میزائل تجربات کرتا رہا۔ شمالی کوریا کی جانب سے گزشتہ برس ہائیڈروجن بم کا تجربہ بھی کیا گیا اور اس تجربے کے باعث جاپان، جنوبی کوریا اور خود شمالی کوریا میں زلزلے کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی دھمکی دی گئی تو کم جونگ ان کی جانب سے کہا گیا کہ پورا امریکا شمالی کوریا کے میزائلوں کے ہدف میں ہے۔ دونوں رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے کو برے القابات سے بھی پکارا گیا جب کہ امریکی صدر نے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کو وقت کا ضیاع بھی قرار دیا۔ گذشتہ برس 29 نومبر کو شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک ایسے بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو امریکا کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس موقع پر امریکا نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کا بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرے کا باعث نہیں بنے گا۔ جس کے بعد 23 دسمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بین البر اعظمی میزائل تجربات کے بعد شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

loading...