اشاعت کے باوقار 30 سال

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی میں رکاوٹ کون؟

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی میں رکاوٹ کون؟

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ میں 86 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان کی رہائی کےلئے ڈاکٹر عافیہ موومنٹ کے پلیٹ فارم سے بھرپور جدوجہد جاری ہے ۔ ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی اس تحریک کی روح رواں ہیں اورملک کے کونے کونے میں جاکر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے آواز بلند کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے سال 2017ء کا المیہ کے نام سے ایک خط بھی تحریر کیا ہے جسے میں چاہتا ہوں کہ قارئین کی نذر کیا جائے۔ وہ اپنے مکتوب میں لکھتی ہیں کہ میرے پاس الفاظ نہیں جن سے میں اپنے جذبات کا اظہار کرسکوں مگر میرے رب کے پاس وہ رحمتیں اور برکتیں ہیں جن کی آپ پر نزول کی میں دعا گو رہتی ہوں۔میں ایک مرتبہ پھر آپ سے اس لئے رابطہ کررہی ہوں کہ ایک اور عیسوی سال 2017 اختتام پذیر ہے۔اس سال کے آغاز میں 20 جنوری کو جب باراک اوبامہ اپنی آئینی مدت صدارت پوری کرکے سبکدوش ہورہے تھے تو عافیہ کے امریکی وکلاء اسٹیون ڈانز اور کیتھی مینلے صدر مملکت ممنون حسین یا وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے ایک خط کے منتظر تھے۔ عافیہ کی صدارتی معافی کے ذریعے رہائی کیلئے عافیہ کے وکلاء مکمل طور پر پرامید تھے۔ یوں سمجھئے کہ عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی میں ’’رکاوٹ‘‘ حکومت پاکستان کا ایک خط بن رہا تھا۔ ہم اس ایک خط کے حصول کے لئے مارچ 2016 سے 20 جنوری 2017 تک جدوجہد کرتے رہے تھے۔ میں اور عافیہ کے امریکی وکلاء پاکستان کے 22 کروڑ عوام موجودہ صدر مملکت ممنون حسین،سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف،سابق مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار سے بار بار رابطہ کر کے ’’ایک خط‘‘ کے لئے درخواستیں اور آخر میں التجائیں کرتے رہے لیکن حکمرانوں کے ’’سنگ‘‘ دل’’ موم‘‘ نہ ہو سکے۔ اس دوران آپ جیسے درد مند دل رکھنے والے کالم نویسوں اور صحافی برادری نے اس دینی و قومی فریضہ کی ادائیگی کے لئے عوام کو حقیقت حال سے روشناس کرایا جس کی بدولت ملک کے چپے چپے سے عافیہ کی رہائی کے لئے خط لکھنے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ ان 9 ماہ میں ملک بھر میں عوام، عافیہ موومنٹ کے رضاکاروں اور مختلف سیاسی و دینی جماعتوں نے عافیہ کی حمایت میں جد و جہدکا سلسلہ شروع کیا۔ ایک جانب کراچی اور حیدرآباد پریس کلب کے باہر عافیہ موومنٹ کی رضاکار خواتین و حضرات نے 86 روزہ ’’عافیہ رہائی علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ‘‘ کا انعقاد کیا تو دوسری جانب عافیہ موومنٹ ،خیبر پختونخوا کے رضاکاروں نے لکی مروت سے براستہ بنوں، ڈومیل، کرک، لاچی، کوہاٹ تا پشاور بعد ازاں پشاور سے براستہ پبی، نوشہرہ، اکوڑہ خٹک ،جہانگیرہ، خیرآباد، اٹک تا اسلام آباد ’’عافیہ رہائی پیدل مارچ‘‘ کئی سوکلومیٹر پیدل چل کر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کیلئے ’’امریکی صدر کو ایک خظ لکھنے‘‘ کا مطالبہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا۔ اس دوران میں حیدرآباد، پشاور،لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور کئی دیگر شہروں میں گئی اور جہاں پر ڈاکٹر عافیہ کے حق میں مختلف سیاسی، سماجی اور دینی جماعتوں اور عافیہ موومنٹ کے جلسے، جلوسوں اور ریلیوں میں شرکت اور پریس کانفرنسوں سے خطاب بھی کیا۔ جیسے جیسے امریکی صدر باراک اوبامہ کی سبکدوشی کی تاریخ 20 جنوری نزدیک آتی گئی، ملک کے کونے کونے سے عافیہ کی وطن واپسی کے لئے خط لکھنے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بالواسطہ اور بلاواسطہ پیغامات آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا کہ عافیہ کو جلد بارٹر سسٹم کے تحت واپس لانے کی خوشخبری پوری قوم کو دی جائے گی۔ جہاں آپ کے گھرانے نے اتنا صبر کیا اورقربانیاں دی ہیں تو ملک و قوم کیلئے کچھ دن اور صبرکرنے کی قربانی دے دیں۔ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے یہ بات عام کی گئی اور ٹی وی ٹاک شوز میں بھی پرائم منسٹر ہاؤس کے حوالے سے عافیہ کو بارٹر سسٹم (شکیل آفریدی کے تبادلے میں) واپس لانے کے آپشن پر بھی اظہار خیال کیا گیا۔ 20 جنوری کا دن ہی نہیں گذر گیا، 2017 کا سال بھی گذرنے والا ہے۔’’ کیا یہ 2017 کا المیہ نہیں ہے کہ عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کا ایک اور موقع حکمرانوں اور ارباب اختیار نے گنوا دیا‘‘ جس کے باعث عافیہ کا ایک اور سال جرم بے گناہی کی پاداش میں امریکی قید تنہائی میں گذر گیا۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی دیگر سیاست دانوں اور اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح عافیہ کو قوم کی بیٹی کہا تھا۔ 2013 میں برسر اقتدار آنے کے فوراََ بعد عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی اور بیٹی مریم سے ملاقات میں عافیہ کو 100 دن میں واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔ میاں محمد نواز شریف تو اقتدار میں نہیں رہے لیکن ان کی جماعت مسلم لیگ ن اب بھی برسراقتدار ہے۔ میاں صاحب کے پاس غالباََ اپنے وعدوں کی تکمیل کا آخری موقع اب بھی باقی ہے۔ گذشتہ ڈھائی سالوں میں عافیہ سے ٹیلی فون پر ہونے والی چند منٹ کی بات چیت کا سلسلہ بھی منقطع ہو چکا ہے۔ اس سے قبل عافیہ کی صحت سے متعلق تشویشناک اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔ اس سال مارچ کے مہینے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کے ذریعے اہل خانہ کو پتہ چلا کہ ہیوسٹن امریکہ کے پاکستانی قونصل خانے کی قونصلر جنرل عائشہ فاروقی عافیہ سے ملاقات کرنے جیل گئی تھیں۔ عائشہ فاروقی کا بیان ہے کہ جنیوا کنونشن کی شق 2047 کا حوالہ دینے پر انہیں ملاقات کے لئے اس بیرک تک لے جایا گیا جہاں عافیہ قید ہے۔ عائشہ فاروقی بتاتی ہیں کہ ’’سلاخوں کے پیچھے بیڈ پر ایک خاتون منہ پر چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہڈیوں اور گوشت کا ڈھیر بیڈ پر دھرا ہو، بے حس و بے حرکت۔ جیل حکام کی جانب سے بتایا گیاکہ یہی عافیہ ہے‘‘۔ اس طرح عافیہ کے زندہ ہونے کی تصدیق ہو سکی ہے۔ عافیہ کی صحت کی تشویشناک اطلاعات کے بعد حکومت سے کئی بار عافیہ سے ملاقات کرانے کی درخواست کی جا چکی ہے۔ عافیہ کی ضعیف اور باہمت والدہ اپنی بیٹی اور دونوں بچے احمد و مریم اپنی ماں سے ساڑھے 14 سال سے ملاقات کے لئے ترس گئے ہیں۔ میں خود بھی اپنی بہن عافیہ سے ملنا چاہتی ہوں تاکہ بحیثیت ڈاکٹر عافیہ کی صحت کا اندازہ کر سکوں۔میری حکومت وقت اور ارباب اختیار سے استدعا ہے کہ ہماری عافیہ سے ملاقات کرانے کا سرکاری طور پر بندوبست کیا جائے جس کے تمام تر اخراجات ہم نجی طور پر برداشت کریں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ صرف ان قوموں اور تہذیبوں نے ترقی کی ہے جن کی لیڈرشپ ’’غیرت مند‘‘تھی۔ جب ایک بھارتی خاتون کو نیویارک میں امریکی قوانین کی خلاف ورزی پر مقامی پولیس نے گرفتار کیا تو فوری طور پر انڈیا میں گویا ایک بھونچال آ گیا۔ وہاں کی حکومت، اپوزیشن، فوج، ریاستی ادارے، سول سوسائٹی اور عام آدمی قومی یکجہتی کے ساتھ سراپا احتجاج ہوئے۔ یہاں تک معاملہ امریکہ سے سفارتی تعلقات توڑنے کی حد تک پہنچ گیا۔ جس پر امریکیوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑ گئے۔ اس وقت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت میں انڈیا کا تیسرا نمبر ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب لیڈرشپ غیرت مند ہو۔ عافیہ کی رہائی کی جدوجہد عالمگیر حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ ہر براعظم میں عافیہ کی رہائی کے لئے آواز بلند کی جا رہی ہے۔پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کے علاوہ امریکہ میں بھی قانون دان، دانشوراور سول سوسائٹی کے ارکان عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ہم نے عافیہ کی وطن واپسی کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ حکمرانوں کو ان کے وعدے اور آئینی فریضہ کی تکمیل کی ادائیگی کیلئے زنجیر عدل بھی ہلا چکے ہیں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن نمبر 3139/2015، لاہور ہائی کورٹ میں 1071۔H/2009 اور سندھ ہائی کورٹ میں 1315/2013 دائر ہیں لیکن حکمرانوں اور ریاستی حکام نے عدالتوں کے احکامات پربھی عمل نہیں کیا۔ مسلمانوں کی تاریخ میں عظیم جرنیل محمدبن قاسم و طارق بن زیاد، عباسی حکمران معتصم باللہ اورعثمانی سلطنت کے فرماں روا سلطان محمد فاتح نے بیٹیوں کی حفاظت کے لئے تاریخ اور جغرافیہ تبدیل کیا ہے۔ وقت تیزی سے گذر رہا ہے۔ الحمد للہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کے لئے سیاسی ،دینی، سماجی رہنماؤں ،اساتذہ، وکلاء، الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی، ایڈیٹرز، کالم نویس، اینکر پرسن، رپورٹر، فوٹو گرافر، کیمرہ مین، مزدور، کسان، طلبہ و طالبات غرض کہ ہر شخص غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حصہ کا فرض ادا کر رہا ہے۔ اگر کہیں کمی نظر آئی ہے تو وہ ہمارے حکمرانوں، سیاسی قائدین اور پارلیمنٹ اور اقتدار کے ایوانوں کے کردار میں نظر آئی ہے۔ موجودہ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی عافیہ کے اہل خانہ اور عافیہ کے وکلاء کو اعتماد میں لے کر ’’کرسمس‘‘ کے موقع پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے عافیہ کی رہائی کے لئے بات چیت کریں تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ تیزی سے اختتام پذیر اس سال 2017ء میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں سے ایک اہم اور المناک واقعہ یہ بھی ہے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی قیدناحق کا خاتمہ اور وطن واپسی ’’سابق وزیر اعظم نواز شریف یا صدر مملکت ممنون حسین کے ایک خط‘‘ نہ لکھنے کی وجہ سے نہ ہو سکی۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکمرانوں کو کسی قسم کی مصلحت پسندی سے کام نہیں لینا چاہیے اور فوزیہ صدیقی کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان کی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔

تحریر : محمد شاہد محمود بشکریہ : پینا نیوز
نوٹ: ادارے کا اس قلم کار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

loading...