اشاعت کے باوقار 30 سال

ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکیوں کے بعد چین بھی میدان میں آ گیا

ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکیوں کے بعد چین بھی میدان میں آ گیا

بیجنگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کو دی جانے والی حالیہ دھمکی کے بعد چین کی جانب سے پاکستان کی حمایت میں بیان سامنے آ گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے زبردست کوششوں کے ساتھ بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ ژوانگ نے منگل کو پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہیے، پاکستان نے بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے لیے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوش ہیں کہ پاکستان دوسرے ممالک کے ساتھ دہشت گردی سمیت خطے میں امن و استحکام کے لیے باہمی احترام کی بنیاد تعاون کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین اور پاکستان کو ہر ماحول میں اسٹریٹجک شراکت داری کو قائم رکھنا ہے، چین اپنے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے اور دونوں ممالک کے لوگوں کو مزید فائدہ پہنچانے کا خواہش مند ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی امداد کو بیوقوفی قرار دیا تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’امریکا نے پاکستان کو 15 سال میں 33 ارب ڈالر سے زائد امداد دے کر بے وقوفی کی، پاکستان نے امداد کے بدلے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا جبکہ وہ ہمارے رہنماؤں کو بیوقوف سمجھتا ہے‘۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا ہے اور افغانستان میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے میں معمولی مدد ملتی ہے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا‘۔ امریکی صدر کے بیان پر وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی ٹوئٹ کی اور کہا کہ ’بہت جلد ٹرمپ کے ٹوئٹ کا جواب دیں گے، دنیا کو سچائی سے آگاہ کریں گے اور بتائیں گے کہ حقیقت اور افسانے میں کیا فرق ہے‘۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹویٹ پر امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کے سینئر عہدیدار نے بتایا تھا کہ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر کو طلب کر کے امریکی صدر کے بیان پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ طلبی کے دوران امریکی سفیر سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹ کی وضاحت بھی مانگی گئی۔

loading...