اشاعت کے باوقار 30 سال

سابق زمبابوین صدر موگابے کے لئے بھاری مراعات کا اعلان

سابق زمبابوین صدر موگابے کے لئے بھاری مراعات کا اعلان

ہرارے: زمبابوے کے سابق صدر رابرٹ موگابے کو حکومت کی جانب سے رہائش، کاروں اور نجی ائر ٹریول، ہیلتھ انشورنس سمیت دیگر مراعات فراہم کی جائیں گی۔ زمبابوے کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے موگابے کو 6 اہل کاروں پر مشتمل سیکیورٹی گارڈ سمیت 20 افراد کا اسٹاف فراہم کیا جائے گا جن کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ یاد رہے کہ موگابے کو گزشتہ ماہ احتجاج اور فوج کی مداخلت کے بعد ایک معاہدے کے تحت اپنی طویل حکمرانی سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ زمبابوے کے 93 سالہ ممعر رہنما کے ساتھ طے پانے والے خفیہ معاہدے کی تفصیلات پہلی مرتبہ موجودہ صدر ایمرسن میننگاگوا کے ذریعے سامنے آ گئی ہیں۔ معاہدے کے مطابق پنشن کی رقم کی تفصیلات تو واضح نہیں ہوئی ہیں لیکن ملک کے آئین کے مطابق سابق صدر کی پنشن موجودہ صدر کی تنخواہ کے برابر ہو گی۔ مقامی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ موگابے کو ممکنہ استعفے کے پیش نظر ایک کروڑ ڈالر ریٹائرمنٹ بونس ادا کیا گیا تھا جو معاہدے کا حصہ تھا تاہم حکومت کی جانب سے ان دعووں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ موگابے کے لیے اعلان کردہ نئے پیکیج میں مرسیڈیز بینز ایس 500 سیریز کی تین کاریں یا اسی معیار کی کاریں اور اسٹیشن ویگن اور پک اپ وین فراہم کی جائے گی جو ہر 5 سال بعد تبدیل ہوں گی۔ ان تمام گاڑیوں کے لیے ایندھن کا انتظام بھی حکومت کی جانب سے کیا جائے گا۔ موگابے اور ان کی اہلیہ کو سفارتی پاسپورٹس دیے جائیں گے اور دونوں میاں بیوی زمبابوے کے اندر ہوائی جہاز یا ریل کے چار فرسٹ کلاس سفر اور نجی طیارے میں ملک سے باہر چار مرتبہ جا سکیں گے۔ سابق صدر کو دارالحکومت ہرارے کے کسی بھی علاقے میں مکمل تزئین و آرائش کے ساتھ سرکاری رہائش گاہ فراہم کی جائے گی جس کے ساتھ بلز اور انٹرٹینمنٹ الاؤنسز بھی شامل ہوں گے۔حکومت کی جانب سے دی گئی مراعات میں موگابے اور ان کی اہلیہ کے علاوہ ان کے زیر کفالت افراد کو ہیلتھ انشورنس بھی دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ رابرٹ موگابے نے 21 نومبر کو ان کی حکمراں جماعت کی جانب سے مؤاخذے کے اعلان کے بعد معاہدے کے تحت استعفی دیا تھا جب کہ فوج نے پہلے ہی مداخلت کر کے اختیارات کو ہاتھ میں لیا تھا۔ موگابے کی جانب سے استعفے کے اعلان کے ساتھ ہی ان کے 37 سالہ طویل حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا تھا جس کے ساتھ ہی ان کے سابق نائب صدرایمرسن میننگاگوا کو متبادل صدر منتخب کیا تھا۔ 93 سالہ رابرٹ موگابے اس وقت دنیا کے معمر ترین سربراہ ریاست تھے جن کے اقتدار کا خاتمہ 37 سال بعد ہوا۔

loading...